ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 71 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 71

زمانہ میں دو پتھروں کے درمیان غلہ کو کوٹ کر روٹی بنالیا کرتے تھے۔آپ نے کبھی مال جمع نہیں کیا ہاں ضرورت کے وقت قرض لے لیتے تھے۔لیکن آپ کا طریق تھا کہ آپ قرض کی ادائیگی کے وقت قرض کی رقم سے کچھ زائد واپس کر دیتے تھے۔آنحضرت کا عفو اور رحم کا آپ کی سرشت میں رحم اور عفو کوٹ کوٹ کر بھرا ہو ا تھا۔دعویٰ نبوت کے بعد آپ کی مکی زندگی میں آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں اور زندگی آپ پر مشکل کر دی گئی۔آپ کے صحابہ اور صحابیات کو قسم قسم کے دکھ دیئے گئے۔بعض کو سخت بے رحمی سے قتل کیا گیا۔مثلاً ایک طریق دکھ دینے کا یہ تھا کہ ایک صحابی کی ایک ٹانگ ایک اونٹ کے ساتھ باندھ دی گئی اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ کے ساتھ اور پھر اونٹوں کو مخالف سمتوں میں ہانک دیا گیا اور اس طرح اس صحابی کے بدن کو دوٹکڑوں میں چیر ڈالا گیا۔حضرت بلال غلام تھے ان کا مشرک آقا انہیں جلتی دھوپ میں جلتی ریت اور پتھروں پر لٹا دیتا تھا اور ان کی چھاتی پر دھوپ سے جلتے ہوئے پتھر رکھ دیتا تھا اور کہتا تھا کہ محمدکا انکار کرو لیکن وہ کمال اطمینان سے اپنے ایمان کا اعلان کرتے رہتے تھے۔چنانچہ آخر عمر تک ان کی پیٹھ اور سینہ پر اس عذاب کے نشان باقی تھے۔پھر جب حضور ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے تو قریش کی عداوت اور بغض میں کوئی کمی نہ آئی اور انہوں نے بار بار مدینہ پرحملہ کئے۔جنگی مدافعت کیلئے حضور کوئی بار جنگ کرنی پڑی جس میں مسلمانوں کو بہت سی تکالیف کا سامنا ہوا اور بہت سے مسلمان شہید ہوئے لیکن آخر جب مکہ فتح ہوا اور آپ کے خونی دشمن عاجز ہو کر آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں 71