ایک عزیز کے نام خط — Page 72
نے جواب دیا کہ آپ جو بھی سلوک ہمارے ساتھ کریں ہم اس کے سزاوار ہیں۔لیکن آپ کریم بھائی ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہم سے ایک کریم بھائی کی طرح سلوک کرینگے۔آپ نے فرمایا: لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم۔یعنی جاؤ میں نے معاف کر دیا۔آج تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا۔اور سوائے چند افراد کے جن کو خاص خاص جرائم کی سزادی گئی ، مکہ والوں کو بالکل معاف کر دیا گیا۔کیا دنیا ایسے عفو اور رحم کی مثال پیش کر سکتی ہے۔؟ آپ ﷺ کی شجاعت آپ کی ذاتی شجاعت اور جرات اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور توکل حد درجہ کے تھے۔آپ کے دشمن بھی کہا کرتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّه یعنی محمد علی تو اپنے رب پر عاشق ہوگیا ہے۔اور اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے رب کے عاشق تھے اور آپ " کارب ย آپ کا عاشق تھا۔ہجرت کے موقعہ پر جب آپ مکہ سے نکل کر غار ثور میں ٹھہر ہوئے تھے تو قریش کا ایک گروہ آپ کا کھوج لگاتے لگاتے غار کے منہ تک پہنچ گیا۔حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے پاؤں غار کے منہ کے ساتھ نظر آتے تھے اور اگر وہ نیچے نگاہ کر کے غور سے دیکھتے تو ہمیں دیکھ لیتے۔اس وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کی خاطر گھبراہٹ کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللهَ مَعَنا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔کیسا کامل ایمان اور کامل بھروسہ ہے! ایک جنگ کے موقعہ پر جب مسلمانوں کی حالت بہت کمزور ہوگئی اور چند گنتی کے صحابہ آپ کے ساتھ رہ گئے اور آپ خود بھی زخمی ہو گئے تو کفار کی طرف سے بعض اکابر صحابہ کے نام پکارے گئے تا وہ معلوم کریں کہ وہ زندہ ہیں یا مارے گئے۔رسول اللہ علیہ نے سورة التوبة - آيت 40 72