ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 70 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 70

تھے۔یہیں دربار رسالت لگا کرتا تھا۔یہیں صحابہ کرام سے ملاقات ہوتی تھی ،مشورے ہوتے تھے، امور سلطنت سرانجام پاتے تھے۔بڑے بڑے بادشاہوں کے ایلچیوں سے بھی یہیں ملاقات ہوتی تھی۔نہ کوئی چپڑاسی نہ چوبدار، نہ وردی نہ کمر بند۔حضور کا اپنا لباس نہایت سادہ ہو ا کرتا تھا اور کسی قسم کے کوئی ضابطے اور پابندیاں نہیں تھیں۔اور ساتھ ہی حضور ﷺ کا رعب اس قدر تھا کہ کسی کو نظر اٹھا کر دیکھنے کی نہ جرات ہوتی تھی نہ تاب۔آپ کی غذا بالکل سادہ تھی۔جو بھی غریبانہ طور پر میسر آجاتا تھا وہ تناول فرما لیتے۔کئی دفعہ خشک کھجوروں کو کوٹ کر انہیں پر گزارا کر لیا جاتا تھا۔کئی کئی دن آپ کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی کیونکہ کوئی چیز پکانے کی نہیں ہوا کرتی تھی۔حضور اپنے ہاتھ سے کپڑوں میں پیوند لگا لیتے تھے۔جوتے کی مرمت کر لیا کرتے تھے۔کسی نے حضرت عائشہ سے پوچھا حضور جب گھر کے اندر ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا گھر کے کام کاج میں ہماری مدد کرتے ہیں۔رات کا بہت سا حصہ آپ " کا عبادت میں گذرتا تھا۔نوافل میں آپ قیام اس قدر لمبا کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں بعض دفعہ متورم ہو جاتے تھے۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا تو آپ کے ساتھ مغفرت کا وعدہ ہے پھر آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ مدینہ پہنچنے کے بعد جب مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہوئی تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ ملکر مٹی اٹھاتے تھے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے۔جنگ خندق کے موقعہ پر بھی اسی طرح آپ صحابہ کے ساتھ شامل ہو کر خندق کھودنے میں مصروف رہے اور بھوک کا یہ عالم تھا کہ حضور نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔عرب میں اس زمانہ میں چکی کا رواج نہیں تھا۔جب بعد میں فتوحات کا سلسلہ وسیع ہوا اور ہر قسم کے آرام کے سامان میسر آنے لگے اس وقت باریک پیسا ہوا آٹا بھی ملنے لگا۔اس زمانہ کی حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں جب گندم کے آئے کی روٹی کھانے لگتی ہوں تو وہ میرے حلق میں پھنستی ہے کیونکہ مجھے ایسے موقعہ پر یاد آجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی زندگی میں گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی تھی اور ہم اس الله 70