ایک عزیز کے نام خط — Page 69
کیونکہ آپ کا ایمان پختہ تھا کہ فتح وشکست اصل میں اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ بے نیاز ہے۔جسے چاہتا ہے فتح عطا کرتا ہے۔بعض مہموں پر آپ نے فوج کو دوسروں کی کمان کے ماتحت بھی بھیجا اور ہدایات دیں کہ دشمن کی کھیتیوں اور ثمر دار باغوں کو تباہ نہ کرنا۔سایہ دار درخت نہ کاٹنا ، بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو دکھ نہ دینا۔راہبوں اور پادریوں وغیرہ کو ایذا نہ پہنچانا۔جب دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو صلح کی طرف جھک جانا اور محض غنیمت کے طمع یا بدلہ کی خاطر جنگ کو جاری نہ رکھنا۔چونکہ آپ نے عام طور پر یہ حکم بھی دیا تھا کہ کسی شخص کو آگ کا عذاب نہ دیا جائے اس سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ دفاع کی صورت میں مجبور ہو کر اگر ایسا کرنا پڑے تو الگ امر ہے ور نہ اسلام جنگ میں ایسی توپ، بم وغیرہ کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا جس کے استعمال سے آگ کا استعمال لازم آتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی سادہ زندگی پھر اس بادشاہ کا دربار کیسا تھا؟ فوجوں کے پہرے، چوبدار کی وردیاں، زرق برق پوشاکیں ، بینڈ باجے ،محلات، آرائش، فرش و فروش ، جھاڑ فانوس، تصاویر اور بت ، دیوان عام اور خاص ، آراستہ تخت ، در بار اور جشن ،لونڈیاں اور غلام کچھ بھی نہ تھا۔حتی کہ اس شاہ دو عالم کے سونے کے لئے پلنگ بھی نہیں تھا۔آپ زمین ہی پر سو جاتے تھے اور آپ کا بستر ایک چمڑے کا گدا تھا جس میں کھجور کے خشک پتے بھرے ہوئے تھے اور بسا اوقات آپ کھجور کی شاخوں کی کھردری صف پر ہی لیٹ کر سو جاتے تھے۔اور جب آپ اس پر سو کر اٹھتے تھے تو آپ کے بدن پر ان شاخوں کے نشان ہو ا کرتے تھے۔رہنے کو کچے جھونپڑے تھے۔ایک کچی مسجد جس کی چھت بھی کھجور کی خشک شاخوں کی تھی اور بارش میں پکا کرتی تھی۔یہ مسجد بھی تھی اور دار الشوریٰ بھی تھی۔یہیں حضور نمازیں پڑھا کرتے 69