ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 68 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 68

صلى الله آنحضرت یہ ایک حاکم کی حیثیت میں علوس دعوی نبوت کے بعد آپ کی مکی زندگی میں آپ " کو اور آپ کے اصحاب کو طرح طرح کے دکھ دیئے گئے۔لیکن آپ نے مکہ میں جو بھی نظام حکومت قائم کیا تھا اس کے خلاف کبھی کوئی منصوبہ نہیں کیا اور نہ کوئی مقابلہ کی راہ اختیار کی۔مدینہ پہنچ کر مدینہ کے مسلمان، یہود اور مشرکین نے آپ کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا۔اور آہستہ آہستہ مدینہ کے مشرکین تو مسلمان ہو گئے اور صرف مسلمان اور یہو دمدینہ میں رہ گئے گو بعد میں یہود بوجہ اپنی شرارتوں اور سازشوں اور غداریوں کے بعض جلا وطن کئے گئے اور بعض کو سزائے موت دی گئی۔لیکن جب تک وہ مدینہ میں رہے رسول اللہ ﷺ کو اور مسلمانوں کو طرح طرح کے فتنوں میں مبتلا کرتے رہے۔ادھر قریش مکہ اور عرب کے دیگر مشرک قبائل بار بار مدینہ پر حملہ آور ہوتے تھے یا حملہ کی تیاریاں کرتے تھے۔اور مدینہ میں مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ کوئی دن ان پر چین یا امن کا نہ گذرتا تھا۔ایک صحابی کا قول ہے کہ اس زمانہ میں ہم حسرت سے کہا کرتے تھے کہ یا اللہ ہم پر کوئی ایسا بھی زمانہ آئے گا کہ ہم رات کو سوئیں گے اور ہمارے دلوں میں سوائے تیرے خوف کے اور کوئی خوف نہ ہوگا۔لیکن باوجود ان تمام مشکلات کے رسول اللہ ﷺ کو شروع سے ہی مدینہ میں حکومت حاصل تھی اور آہستہ آہستہ اس حکومت کا حلقہ وسیع ہوتا گیا۔حتی کہ فتح مکہ کے بعد آپ تمام جزیرۂ عرب کے بادشاہ تسلیم کر لئے گئے۔گویا ہجرت کے بعد کا زمانہ آپ کی حکومت کا زمانہ تھا اور اس زمانہ میں آپ نے ہمارے لئے ایک کامل جرنیل اور بادشاہ کا نمونہ قائم کیا۔آپ جنگوں میں خود کمان کیا کرتے تھے گو اپنے ہاتھ سے آپ نے کسی کو قتل نہیں کیا۔آپ بعض دفعہ جنگ میں زخمی بھی ہوئے اور بعض دفعہ جنگ کی حالت سخت خطرناک اور تشویشناک ہو جاتی تھی لیکن آپ کی طرف سے کسی وقت بھی کمزوری کا اظہار نہیں ہوا۔بے شک آپ نہایت بے قراری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے رہتے تھے۔68