ایک عزیز کے نام خط — Page 62
تھے۔اور آپ نے فرمایا: ” تو میرے لئے بہت ہی اچھی اور شفیق ماں تھی۔“ اور اس بات کا اندازہ کہ آپ ماں کا درجہ کیا سمجھتے تھے، آپ کے اس قول سے ہوسکتا ہے کہ جنت ماں کے پاؤں کے نیچے ہے۔اور آپ بار بار ماں باپ کی اطاعت کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔اور ایک شخص کے نہایت اعلیٰ اور پسندیدہ عمل کا یوں ذکر فرماتے تھے کہ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کو ہر شام دودھ پلایا کرتا تھا۔ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ اسے دودھ لانے میں دیر ہوگئی اور اس کے ماں باپ سو گئے۔لیکن وہ دودھ لئے ان کے سرہانے کھڑا رہا اور تمام رات ایسے ہی گذار دی۔صبح کے وقت جب اس کے ماں باپ بیدار ہوئے تو اس نے دودھ انہیں پینے کو دیا۔اس نے یہ تمام تکلیف برداشت کی لیکن یہ پسند نہ کیا کہ ماں باپ کی نیند میں خلل ڈالے یا ان کے دودھ پینے میں ناغہ ہو ( یہ ایک لمبی حدیث کا ایک حصہ ہے )۔آپ اپنی انا حلیمہ کی بھی بہت عزت اور اپنے رضاعی بہن بھائیوں سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔بلکہ حلیمہ کے تمام قبیلہ والوں کے ساتھ آپ حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔نبوت کا درجہ عطا ہونے سے پہلے بھی آپ کی زندگی ہر رنگ میں نمونہ تھی۔آپ کی عفت اور حیا اور امانت اور محتاجوں کی خبر گیری اور مہمان نوازی اور سخاوت مسلّمہ تھی۔اور جوانی میں ہی آپ اپنے اہل وطن میں الامین کے نام سے مشہور تھے۔بیوی سے سلوک حضرت خدیجہ مکہ کی ایک متمول ہیوہ تھیں۔آپ نے رسول اللہ ﷺ کو نبوت کے زمانہ سے بہت پہلے اپنی طرف سے تجارت کا مال و اسباب دیگر شام کی طرف تجارت کے لئے بھیجا اور آپ کی دیانت و امانت اور دانش کا خدیجہ پر اس قدر اثر ہوا کہ خدیجہ نے آپ کو پیغام نکاح بھیج دیا جسے آپ نے منظور کر لیا۔اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی 62