ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 61 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 61

ہونا لازم ہے اور ایک جرنیل میں کن صفات کا۔اور یہ کہ جنگ کے کیا اصول ہونے چاہئیں اور ایک فاتح جرنیل کو شکست خوردہ دشمنوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے۔اور تنگی میں انسان کو کیسے بسر کرنی چاہیئے اور فراخی میں کیسے۔اور تجارت کے کیا اصول ہونے چاہئیں اور ایک تاجر کو کیسا نمونہ دکھانا چاہئے۔غرض حضرت مسیح ناصری کی زندگی میں ہمیں یہ بات نظر نہیں آتی کہ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں انسان کو کیسا نمونہ قائم کرنا چاہئے۔صلى الله آنحضرت ان کے کامل اخلاق اس کے مقابل میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے چونکہ رسول اللہ علی کو ایک کامل نمونہ کے طور پر منتخب کیا تھا۔اس لئے آپ " کو تمام حالتوں میں سے گذرنا پڑا جن کا میں نے ذکر کیا ہے تا کہ آپ کی زندگی ہر شعبہ میں بنی نوع انسان کے لئے کامل نمونہ ہو۔گو آپ کے والد آپ کی پیدائش سے قبل فوت ہو گئے تھے اور والدہ ابھی آپ چند ہی سال کے ہوئے تھے تو فوت ہوگئی تھیں۔لیکن آپ کے دادا عبدالمطلب اور بعد میں آپ کے چا ابو طالب نے آپ کو اپنے بچوں کی طرح پالا۔اور آپ نے ان دونوں کی اطاعت اس طور پر کی جیسے ایک بیٹے کو اپنے باپ کی کرنی چاہئے۔اور جوانی میں خصوصیت سے آپ نے اپنے چچا کی اطاعت واعانت کا ایک نہایت ہی اعلیٰ اور قابل تقلید نمونہ قائم کیا حالانکہ آپ کے چچا اپنی وفات تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔اور جب آپ کے چچا ضعیف ہو گئے تو آپ نے ان کے ایک بیٹے حضرت علی کی پرورش اور تربیت اپنے ذمہ لے لی۔تا کہ آپ کے چا کی ذمہ داری ہلکی ہو جائے اور ان کے سر سے بوجھ کم ہو۔اور آپ نے نہایت شفقت سے حضرت علی کی تربیت کی اور بعد میں اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ان کے نکاح میں دے دی۔اور کئی سال بعد جب آپ کی بچی مدینہ میں فوت ہوئیں تو آپ ان کے دفن کے وقت خود قبر میں اترے اور لحد کو صاف کیا۔اور اپنی بچی کی نعش کو لحد میں رکھا۔اور اس وقت آپ آبدیدہ 61