ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 63 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 63

اور آپ کی عمر پچیس سال تھی۔حضرت خدیجہ نے نکاح کے بعد اپنا تمام مال اور اپنے تمام غلام آپ کے حوالہ کر دیئے۔آپ نے وہ مال محتاجوں میں تقسیم کر دیا اور غلاموں کو آزاد کر دیا۔حضرت خدیجہ آپ کے عقد میں آنے کے بعد کم و بیش پچیس سال زندہ رہیں اور جس وقت الله وہ فوت ہوئیں حضور ﷺ کی عمر پچاس سال کے قریب تھی۔ان کے بطن سے حضور کے تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہوئیں اور حضور ﷺ نے دنیا کے سامنے خاوند اور باپ کی حیثیت میں کامل نمونہ قائم کیا۔اور یوں آپ نے اپنے اقوال سے بھی عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کی تعلیم دی۔اور فرمایا: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِهِ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر کے لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول الله عله حضرت خدیجہ کا ہمیشہ اس رنگ میں ذکر فرمایا کرتے تھے کہ میں آپ کی زندہ بیویوں میں سے کسی کا اتنا رشک نہیں کرتی تھی جتنا فوت شدہ خدیجہ کا۔اور اگر حضرت خدیجہ کی سہیلیوں میں سے کوئی حضور کو ملنے آجاتی تھی تو آپ خاموشی سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور اپنا کپڑا اس کے بیٹھنے کے لئے بچھا دیا کرتے تھے۔اور جب کوئی تحفہ وغیرہ آتا تھا تو اسے تقسیم فرماتے ہوئے حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو بھی حصہ بھیجا کرتے تھے۔بچوں پر شفقت سب بچوں کے ساتھ حضور ﷺ بہت شفقت سے پیش آیا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضور اپنے نواسوں کے ساتھ پیار کر رہے تھے تو ایک بدوی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ اپنے بچوں کو چوم بھی لیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا میرے تو اتنے بچے ہیں، میں نے تو آج تک ان میں سے کسی کو نہیں چوما۔تو آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارا دل سخت کر دیا تو میں اس کا کیا علاج کروں ؟۔کئی دفعہ جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو امام حسن یا امام حسین سجدہ کے وقت 63