ایک عزیز کے نام خط — Page 138
آخری بات پسند کی۔اس پر حضرت ابو بکر رو پڑے باقی صحابہ نے بعد میں محسوس کیا حضرت ابو بکر اس وقت سمجھ گئے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ جس کا ذکر حضور نے فرمایا تھا وہ خود حضور ہی تھے۔اور میں نے اپنی والدہ مرحومہ سے متعلق خود دیکھا کہ وہ نہایت اطمینان سے اور خوشی خوشی ہم سے رخصت ہوئیں اور ہمیں صبر کی تلقین کی اور پھر اپنے مولیٰ کی طرف رُخ کر لیا اور ہم سے جُدائی کا خیال اس طرح دل سے نکال دیا کہ گویا جدائی کا انہیں کوئی احساس ہی نہیں اور یہ وہی ماں تھی جسے ایک لمحہ بھر کی جدائی ہم سے گوارا نہ تھی۔گواُن کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے جب انکی یہ حالت ہوگئی تو میرا دل آنے والی جدائی کو محسوس کر کے اس بات سے بھی تکلیف محسوس کرتا تھا کہ ان کی توجہ ہماری طرف اب نہیں لیکن اس خیال سے ایک اطمینان بھی محسوس کرتا تھا کہ ایک مومن کی یہی حالت ہونی چاہیے جو اس وقت میری والدہ کی تھی کیونکہ موت کے خیال سے انہیں کوئی تشویش یا گھبراہٹ نہ تھی اور وہ اپنے مولیٰ کے حضور جانے پر راضی اور خوش تھیں۔دعا ہے کہ میرا وقت آنے پر اللہ تعالیٰ اپنے رحم سے میرے دل کی بھی یہی حالت کر دے اور مجھے ایسی حالت میں موت دے کہ وہ خود مجھ سے راضی ہو اور اس کی رحمت کے دروازے میرے لئے کھلے ہوئے ہوں۔آمین میں بیان کر چکا ہوں کہ جسم اور رُوح میں کس قسم کا رشتہ ہے۔یہ رشتہ انہیں حالات کے لئے موزوں ہے جو ہمیں اس زندگی میں پیش آتے ہیں اور ان حالات کے مطابق روح اس جسم کی مدد سے ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔لیکن ایک وقت آتا ہے کہ روح موجودہ زندگی کے حالات میں مزید ترقی نہیں کر سکتی اور اس کی مزید ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایک اور عالم میں داخل ہو جہاں کے حالات اس زندگی کے حالات سے بالکل مختلف ہیں اور اس زندگی میں داخل ہونے کے لئے یہ لازم آتا ہے کہ اس جسم کے ساتھ روح کا رشتہ منقطع کیا جائے۔اگر ایسانہ ہو تو انسانی روح کی مزید ترقی رُک جائے گی۔اور چونکہ موت کے ذریعہ انسانی روح ایسے حالات سے نجات پاتی ہے جو اس کی مزید ترقی میں روک ہیں اور ایسے عالم 138