ایک عزیز کے نام خط — Page 137
رحمت ہی ہے جو پیچھے رہتے ہیں ان کے لئے بھی اور جو چلا جاتا ہے اس کے لئے بھی۔گوئین جُدائی کے وقت یہ رحمت کا پہلو ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے اور صدمہ کا احساس اس قدر تیز ہوتا ہے کہ دوسرے سب پہلو اس کے نیچے دب جاتے ہیں۔مثلاً غور کرو کہ ہمارے سب وہ بزرگ جن کی جدائی کا صدمہ ہم اب تک محسوس کرتے ہیں آج زندہ ہوتے اور پھر ان وہ کے بزرگ جن کی جدائی کا صدمہ انہوں نے محسوس کیا اور جن کی موجودگی کی انہیں خواہش اور حسرت تھی اور پھر ان کے بزرگ اور پھر ان کے بزرگ اور اسی طرح ایک لا انتہا سلسلہ تک سب زندہ ہوتے تو اول تو اس زمین پر چلنے پھرنے اور ہلنے جلنے کی جگہ ہی نہ ہوتی۔اور پھر موجودہ نسلوں کی ترقی کرنے کا کوئی میدان میسر نہ ہوتا اور تمام اہم امور کی سرانجام دہی ہمارے بزرگوں کے بزرگوں کے بزرگوں سے کئی سونسلیں اوپر کے بزرگوں کے ہاتھ میں ہوتی اور دنیا ایک عجیب مشکل اور مصیبت کی جگہ بن جاتی۔اور آج ہی پر غور کر کے دیکھو اگر چہ تم ہمیں بہت پیارے ہو اور تمہیں بھی ہمارے ساتھ پیار ہے لیکن تمہاری ترقی کا میدان کھلنے کے لئے ضروری ہے کہ جب ہم اپنا وقت پورا کر چکیں تو ہم چلے جائیں اور تم ہماری جگہ لو۔وہ وقت بے شک صدمہ کا وقت ہوگا لیکن ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس صدمہ کو اسی طرح برداشت کریں جس طرح اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔جانیوالا اپنے مولیٰ سے راضی ہو کر اس کے حضور پہنچنے کی تیاری کرے اور پیچھے رہنے والے بھی اپنے مولیٰ کی رضا کو خوشی خوشی قبول کریں۔کیونکہ اگر چہ انسانوں پر موت آتی ہے اور ہم اپنے والدین اور اپنے دیگر بزرگوں اور عزیزوں سے جدا ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ حستی وقیوم ہے اور اس پر موت نہیں آتی اور وہی ہم سب کا آتا ہے اور ہم سب اسی کے بندے ہیں اور اسی کے حضور ہم سب کو جمع ہونا ہے۔اور ایک سچے مومن پر تو جب وہ وقت آتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید کرتا ہو ا شوق سے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اپنی موت سے تھوڑا عرصہ قبل فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ اس دنیا میں رہے یا اللہ تعالیٰ کے حضور چلا جائے تو اس نے 137