ایک عزیز کے نام خط — Page 139
میں داخل ہوتی ہے جہاں نئی ترقیوں کے میدان اس کے لئے کھلتے ہیں اس لئے موت مرنے والے کے لئے بھی رحمت ہے۔حالات بعد الموت مابعد الموت کے حالات کوئی شخص اپنے مشاہدہ یا تجربہ کی بناء پر تو بیان کر نہیں سکتا۔کیونکہ ان حالات کا مشاہدہ یا تجربہ موت کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔اور موت کا دروازہ ایسا دروازہ ہے جو صرف اندر کی طرف ہی کھلتا ہے باہر کی طرف نہیں کھلتا اور جب کوئی انسان اس میں سے گزر چکتا ہے تو پھر اس دنیا کی طرف واپس نہیں لوٹ سکتا۔اس لئے یہ حالات ہم تجربہ کی بناء پر نہیں بلکہ اسلام کی تعلیم ہی سے اخذ کر سکتے ہیں۔لیکن چونکہ ہم اس تعلیم سے متعلق اس وثوق اور یقین پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو عالم الغیب ہے اس لئے ہم اس کے اُس حصہ کو بھی اسی اطمینان اور یقین سے قبول کر سکتے ہیں جس اطمینان اور یقین کے ساتھ ہم اس کے باقی حصوں کو قبول کرتے ہیں۔حیات بعد الموت کی حقیقت یہ ہے کہ اس زندگی میں ہمارے خیالات اور اعمال کا اثر ہماری روح پر پڑتا ہے اور ان خیالات اور اعمال کے نتیجہ میں ہماری رُوحانی طاقتوں اور قومی کانشو نما ہوتا ہے یا ان میں کمزوری یا نقص یا بیماری پیدا ہوتی ہے۔ہر انسان کی موت کے وقت اس کے روحانی قومی اس کی اس زندگی کے حالات کے مطابق ترقی کر چکے ہوتے ہیں۔بعض ترقی کے کمال کو پہنچ چکے ہوتے ہیں بعض نے اس سے کم ترقی کی ہوتی ہے بعض میں کوئی نقص یا بیماری پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔اس حالت میں روح ایک نئے لطیف عالم میں داخل ہوتی ہے لیکن اول اول اس عالم میں ایک ایسی بے خبری کی حالت میں داخل ہوتی ہے جیسی حالت ایک بچہ کی اس دنیا میں پیدا ہوتے ہی ہوتی ہے۔اس لطیف عالم کے حالات کے مطابق روح کے اندر ویسے ہی احساس اور قومی اور طاقتیں ہوتی ہیں جیسے اس دنیا کے حالات 139