حضرت عزیزہ بیگمؓ ، حضرت زینب بی بیؓ — Page 7
حضرت عزیزہ بیگم 7 بات نہیں سنتی تھیں۔اسی لئے کسی غیر احمدی کو ان کی موجودگی میں احمدیت کے خلاف بولنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔بزرگوں کا دل سے احترام کرتیں۔خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی بہت عزت کرتی تھیں۔حضرت اماں جان کے ساتھ بہت عقیدت و محبت تھی نظرانہ دیئے بغیر ان سے ملنا کبھی پسند نہ کرتی تھیں۔حضرت اماں جان (حضرت سید ہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ) جب عزیزہ بیگم صاحبہ کے گھر تشریف لاتی تھیں تو اس وقت بھی وہ ضرور کچھ نہ کچھ نظرانہ پیش کرتیں۔(6) آپ کے شوہر حضرت منشی صاحب فرماتے ہیں کہ اپریل 1949 ء میں اپنی بیماری کی وجہ سے ربوہ کے پہلے جلسہ سالانہ میں شریک نہ ہو سکا اور اس دوسرے جلسہ میں بھی اپنی بیگم کی بیماری کی وجہ سے شمولیت کی کوئی امید نہ تھی۔مگر ان کی وفات ایسے وقت میں ہوئی جو میرے لئے اس جلسہ میں شامل ہونے کا باعث بن گئی۔اور اس طرح مجھے جلسہ کی برکات حاصل ہوگئیں۔البتہ ایک بات کا افسوس ہے کہ مرحومہ اپنی وفات سے پہلے نہ کوئی وصیت کر سکیں اور نہ ہی اپنی کسی خواہش کا اظہار کر سکیں اور نہ ہی مجھ میں اتنا حوصلہ ہوا کہ ان سے کوئی بات یا خواہش پوچھ سکوں۔کیونکہ میرے