حضرت عزیزہ بیگمؓ ، حضرت زینب بی بیؓ

by Other Authors

Page 8 of 29

حضرت عزیزہ بیگمؓ ، حضرت زینب بی بیؓ — Page 8

حضرت عزیزہ بیگم 8 وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ اتنی جلدی مجھ سے جدا ہو جائیں گی۔میں اسی خیال میں رہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد شفاء دے دے گا، تو کچھ کہوں گا۔بیماری کے دوران ایک دفعہ انہوں نے کچھ کہنا بھی چاہا لیکن ایک دو باتیں کر کے خاموش ہوگئیں کہ میری طبیعت گھبرا رہی ہے باقی باتیں بعد میں کروں گی ،اگر اللہ نے چاہا تو لکھوا دوں گی ، افسوس موت نے مہلت ہی نہ دی، وفات سے دس بارہ گھنٹے پہلے ہی بے ہوش ہو گئی تھیں بے ہوشی میں ہی باتیں کرتی رہیں جو واضح نہ تھیں ، وفات سے چند منٹ پہلے طبیعت کچھ سنبھلی تو صرف یہی کہہ سکیں کہ کمزوری بہت ہے اور ان کی آنکھیں پتھرا گئیں اور نبض رُک گئی اور اپنے پیارے مولا کے حضور حاضر ہو گئیں۔(7) میرا ان کا ساتھ اس دنیا میں 52 سال تک رہا۔ہم دونوں میاں بیوی کی اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہی دعا ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی جگہ موت دے جہاں سے ہمارا جنازہ مرکز ( ربوہ ) میں آسانی سے پہنچ جائے اور حضرت مصلح موعود ید اللہ تعالی جنازہ پڑھائیں اور ہم بہشتی مقبرہ میں دفن ہوں۔عزیزہ بیگم کی آخری بیماری کے دوران میری توجہ اس دعا کی طرف زیادہ ہوگئی۔چنانچہ مرحومہ کے حق میں تو یہ دعا خدا کے فضل سے ایسی صورت میں قبول ہوئی کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا خاص نشان ظاہر ہوا۔