قبول احمدیت کی داستان

by Other Authors

Page 17 of 34

قبول احمدیت کی داستان — Page 17

تحریر پر اعتبار کرتے ہوئے دوران تقریر فرمایا کہ فلاں کتاب میں مرزا حساب نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں آیت کے معنی نہیں سمجھے اور میں نے سمجھے ہیں۔یہ کتنی آنحضرت کی ہتک ہے۔با با رعایت اللہ صاحب احمدی نے اُٹھ کر کہا۔مولوی صاحب اگر یہ حوالہ ایسا ہی ہے۔تو یکی احمدیت چھوڑ دوں گا۔اور اگر غلط ہوا تو پھر ؟ پیر صاحب نے فرمایا تو آئندہ میں مرزا صاحب کے خلاف کبھی نہ بولوں گا۔چنانچہ عام مجلس میں کتاب لائی گئی۔اور یہ حوالہ اس کتاب سے ہرگز نہ نکلا پیر صاحب فرماتے تھے مجھے اپنی شرم آئی جس کی حد نہیں اور میں نے عہد کر لیا کہ آئندہ عام مولویوں کے اشتہارات اور کتابوں پر جو احدیت کے خلاف لکھی گئی ہوں کبھی اعتبار نہ کروں گا۔اس دن سے پیر صاحب کے دل میں حضرت میں موجود کی کچھ عزت بیٹھ گئی۔خیر بات آئی گئی ہوئی ایک دفعہ پیر صاحب کو یہاں منگلا سے لاہور جانا ہوا۔وہاں آپ نے لاہور کے مشہور مدارس اور علماء دیکھنے کا پروگرام بنایا۔مولوی محمد علی صاحب آپ اس سفر میں مولوی محمد علی صاحب لاہوری کے پاس بھی احمد یہ بلڈ نگس تشریف لے گئے۔وہاں ان سے حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کے تعلق لاہوری سے ملاقات بات چیت ہوئی۔ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب بھی وہاں بیٹھے تھے۔انہوں نے اپنی گرہ سے تقریباً چالیس روپیہ کی بہت سی کتابیں خرید کر پر صاحب کو دیں۔واپس اگر پیر صاحب نے ان کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔اور خاکسار بھی چونکہ آپ کی لائبریری کا منتظم تھا۔میں نے بھی ان کتابوں کا مطالعہ