قبول احمدیت کی داستان — Page 16
14 شاہ صاحب بھی حیران ہوئے یہ کون پوشید رستم ہے جو میرے مقابلہ میں بولتا ہے۔رعب دار آواز سے کہا ابو جہل تو خدا کا منکر تھا میں نے کہا ہرگز نہیں۔قرآن کہتا ہے وہ خدا کو مانتا تھا۔وَلَئِن سَاءَ لَتَهُم مَنْ خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَ الله فَالى يُؤفكون۔(العنكبوت آيت (4) اسی مضمون کی میں نے پانچ چھ آیات پڑھ دیں۔انہوں نے سمجھا کہ اس مناظرہ میں ان کی تو ہین ہے کہا۔ہم ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں تم چپ کرو۔میں نے کہا تمہارے تو وہ بھائی ہیں میرے پیر و مرشد ہیں۔میں اُن کی شان میں نازیبا الفاظ برداشت نہیں کر سکتا۔جب باہر نکلے تو پیچھے کے علماء اور مولوی غلام اللہ خان صاحب نے مجھے گلے سے لگایا اور بہت خوش ہوئے۔اور پشتو میں ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس نوجوان کے سر پہ نئی پگڑی باندھنی چاہیئے۔اس نے آج توحید کی عزت رکھ لی۔دوسرے دن ہم واپس پہلے آئے۔احمدیت کی آواز پیر صاحب موصوف ابھی ہمارے چک میں تشریف نہ لائے تھے۔کسی زمانہ میں انہوں نے اپنے وطن بھو چھال کلاں کی جامع مسجد میں احمدیت کے خلاف تقریر کی۔وہاں ایک احمدی بزرگ با بارعایت اللہ صاحب بھوچھا لوی جو پیر صاحب کے رشتہ داروں میں سے تھے۔وہاں موجود تھے۔پیر صاحب نے کسی اشتہار کی