قبول احمدیت کی داستان — Page 18
IA شروع کیا۔عام طور پر میں ایک کتاب پڑھتا جاتا اور پر صاحب لیٹے لیٹے سنتے جاتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصہ سے لے کر یو ای تک کی تمام کتابیں ہم نے خوب مطالعہ کر لیں۔اور یہی کتابیں ہمیں لاہور سے ملی تھیں علاوہ ازیں مولوی محمد علی صاحب کی اپنی لکھی ہوئی چند کتا ہیں۔مثلاً النبوة في الاسلام وغیرہ جن میں جماعت کے اختلافی مسائل پر بحث تھی۔ان کتابوں کے ذریعہ سے ہمیں علم ہوا۔کہ مرزا صاحب کی جماعت کے دو گروہ ہیں۔اور ان کے درمیان یہ اختلافی مسائل ہیں مسئلہ نبوت مسئلہ خلافت پیش گوئی مصلح موعود وغیرہ لیکن اس زمانہ میں ہم مرزا صاحب کا ترجمان مولوی محمد علی صاحب کو سمجھتے تھے اور بقول شاعر: اتانی هواها قبل ان اعرف الهوى فصادف قلبا خاليا فتمكنا وہی عقائد ہمارے دلوں میں گڑ گئے کہ مرزا صاحب ایک نیک آدمی ہیں نبی نہیں۔نہ ہی آپ کے بعد خلافت کی ضرورت ہے۔ہمارے ان عقائد کا علم جب ہمارے دوسرے علماء کی مخالفت علماء کو جوتا توں ہور گوجرانوالہ۔راولپنڈی۔وان بھچراں سے کئی بزرگ علما و چک منگلا آنے شروع ہوئے۔مثلاً مولوی غلام اللہ خان صاحب قاضی شمس الدین صاحب : قاضی نور محمد هنا مولوی شهاب الدین صاحب اور بے شمار علماء حضرات۔ہمارے ساتھ ان کا یہ جھگڑا ہوتا کہ تم مرزا صاحب کو کافر کیوں