عظیم زندگی

by Other Authors

Page 56 of 200

عظیم زندگی — Page 56

۵۶ آغاز اسلام میں عرب کے شہر مکہ میں بت پرست لوگوں نے مسلمانوں کو بہت ستایا اور ان پر ہزاروں مظالم ڈھائے چنانچہ اس صورت حال کے پیش نظر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والے مدینہ شہر کو ہجرت کر گئے۔رفتہ رفتہ اسلام کا پیغام لوگوں میں قبولیت حاصل کرنے لگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ وہ محشر واپس لوٹیں مگر اس امید میں پورے دین سال لگ گئے۔جب آپ واپس لوٹے تو آپ کے ساتھ دس ہزار افراد پرمشتمل لشکر تھا آپ چاہتے تو مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے مگر آپ نے ہر ظلم کو جانتے ہوئے خون ریزی کی سختی سے ممانعت فرمائی اور در گذر و معافی کا سر چشمہ بن کر مکہ میں داخل ہوئے سوائے چند ایک کے جنہوں نے سنگین جرائم کئے تھے ان کو مناسب حال سزا دی گئی باقی تمام شہریوں کو معاف کر دیا گیا۔یہ تھی ہمارے پیارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی وسعت اور فراخ دلی۔آپ نے کبھی انتقام نہ لیا، آپ کا دل مبارک رقم اور ہمدردی اور انسانیت کی محبت سے بھر پور تھا۔حقارت حقارت اور رسوائی در اصل عداوت ہی کا دوسرا رُخ ہے۔چاہیے آپ کسی شخص کے کردار سے کتنے ہی متنفر ہوں مگر اس کے بارہ میں اچھے خیالات دل میں رکھیں حقارت سے دل سخت ہو جاتا ہے۔بیماریوں سے تو ہم میں سے ہر کوئی زندگی میں دو چار ہوتا ہے۔ہزارہ لوگ بری عادتوں سے اپنی صحت خراب کرتے ہیں۔شراب نوش اور سگریٹ پینے والے ان میں