عظیم زندگی — Page 57
سے چند ایک ہیں۔جسمانی بیماریوں کی طرح ہر شخص سوائے اللہ کے پیغمبروں کے روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔جس کی صحت اچھی نہ ہو اس سے برا سلوک تو نہیں کیا جاتا اسی طرح جو روحانی بیمار ہو اس سے بھی برا سلوک مناسب نہیں ایسے لوگوں کے لئے ہمدردی لازم ہے۔غرور عداوت غرور سے جنم لیتی ہے۔جو شخص ذرا بھی مغرور ہو گا وہ دوسروں کے بارہ میں براہی سوچے گا۔غرور خدا تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ارشاد خدا وندی ہے وَلا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا (۳۸۱) زمین پر مغرور بن کر نہ چلو پھر ایک اور جگہ فرمایا فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِرِينَ (۱۲ : ۳۰) مغرور کا ٹھکانہ ہی بہت بُرا ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز مغرور لوگ اس طرح اکٹھے کئے جائیں گے جس طرح بیج اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ذلت اور رسوائی اس روز ان کو چاروں طرف سے گھیرے گی۔پھر حضرت علی کا قول ہے وہ بیرے فصل جن سے تم شرمندہ ہو وہ ان نیک کاموں سے بہتر ہیں جن پر تم مغرور ہو۔غرور ایسی مخفی قوت ہے کہ بعض اوقات نیک لوگ بھی دھوکہ میں اس کا اظہار کر دیتے ہیں اس سے ہر وقت چوکس رہنا لازمی امر ہے ہاں جب دوسروں کا اور اپنا بھی محاسبہ کرو تو وقار اور غرور کو ایک نہ سمجھو کیونکہ ذاتی وقار کا ہونا ضروری ہے۔