عظیم زندگی — Page 34
۳۴ اس لئے کہ اس کی بعض خواہشات اس کی اپنی مرضی سے کیوں نہیں پوری ہوئیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اس جہان میں بہشتی زندگی گزار ہی نہیں سکتا اگر بایوسیاں اور محرومیاں اس کے جذبات پر حکمرانی شروع کر دیں۔ہر انسان کی زندگی رحمتوں اور برکتوں سے معمور ہوتی ہے اگر وہ منظر عام پر نہیں تو انہیں ضرور تلاش کرنا چاہیئے۔اس ضمن میں چند شعروں کا ترجمہ پڑھیں۔(انگریزی) اگر میں تفکرات اور پریشانیوں کی فہرست بنانے لگ جاؤں تو یہ ان گنت ہیں۔اس لئے میرے چہرہ پر بشاشت کہاں سے آئے گی۔مگر واہ واہ مجھے نعمتیں بھی تو حاصل ہیں۔میں ان کو شمار کرتا رہتا ہوں اور مجھے اپنے رب کے احسانات کی شکر گزاری سے فراغت ہی نہیں ملتی۔کبھی اس مثال پر غور کرو کہ ایک شخص کو شکوہ تھا کہ وہ جوتوں سے محروم ہے یہانتک کہ اسے ایسا شخص نظر آیا جو ٹانگوں سے ہی محروم تھا اور اس شخص کی شکر گزاری کا جذبہ دیکھو جو سیڑھی پر سے گرا اور ٹانگ ٹوٹ گئی تو اس نے کہا اللہ تیرا شکر ہے کہ صرف ٹانگ ہی ٹوٹی گردن کا منکا نہیں ٹوٹ گیا۔یا د رہے کہ احسان شناسی اور مسرت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔اس مضمون کی ابتداء میں ہی ہم نے یہ بات کہی تھی کہ ان سطور کے لکھنے کا مدعا یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں جنت کے اثمار سے کس طرح مستفید ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلہ میں کافی بیان ہو چکا ہے اور مزید لکھنا طوالت کا باعث ہو جائے گا اس لئے آپ ختم کرتا ہوں بے ختم