عظیم زندگی

by Other Authors

Page 33 of 200

عظیم زندگی — Page 33

کا اظہار ہوتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ اپنی گفتار میں نامناسب اور گھناؤنے الفاظ استعمال نہ کر سے اور ایسی باتیں کرے جن سے شگفتگی کا اظہار ہو۔جیسے خیالات ہوں انسان ویسا ہی ہوتا ہے اسی طرح اس کی گفت گو بھی اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔یہ بات خوب سمجھ لو کہ انسان کی گفت گو اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔انسان جو بنا چاہتا ہے اس کے مطابق گفتگو کا انداز رکھے تو اسی کے مطابق بن جائے گا اور اگر وہ چاہتا ہے کہ روحانی ابن اللہ بن جائے اور جنت میں اس کا خاص مقام ہو تو اس کی گفتگو اسی انداز کی ہونا لازم ہے گفتگو رُوح کا آئینہ ہوتی ہے۔اگر کبھی کوئی دل شکستگی یا مایوسی کی بات کرنی ہو تو اس سے پر ہیز کرے اور بہتر یہ ہے کہ گفتگو کا موضوع تبدیل کرے یا پھر خاموشی اختیار کرلے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت میں یہ بات داخل تھی کہ آپ کبھی کسی کے بارہ میں تحقیر آمیز گفتگو نہیں فرماتے تھے خواہ اس میں کتنی ہی کمزوریاں ہوں۔احسان مندی بھی وہ جذبہ ہے جس سے دینے والا اور لینے والا دونوں ہی محفوظ ہوتے ہیں۔ایک احمدی کے لئے تو اللہ تعالیٰ کا بے انتہا ء شکر ادا کرنے کے لاتعداد مواقع ہیں اور اِس دنیا میں انسان کے لئے لاتعداد محرومیاں بھی آتی ہیں لیکن احمدی مسلمان کے لئے تو سہی بہت عظیم انعام ہے کہ اسے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی نعمت یر مترقبہ نصیب ہوئی۔اللہ جل شانہ قرآن مجید میں فرماتا ہے ولتكبروا الله على ماقدم وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ٥ ( ۲ : ۱۸۶) اِس بات پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو یہ ہدایت دی ہے اور تاکہ تم (اس کے شکر گزار ہو۔انتہائی احسان ناشناسی ہوگی کہ انسان واویلا مچائے اور شور و غوغا کرے