عظیم زندگی

by Other Authors

Page xvii of 200

عظیم زندگی — Page xvii

فلسفہ سمجھایا اور میں بخوشی اس کی راہ میں مال دینے لگا۔مشروع شروع میں اپنی آمد کا پر حصہ ادا کرتا رہا اور بعد میں اس کو بڑھا کر بڑا کر دیا۔در آخر کار ۱۹۶۷ ء میں میں نے اپنی آمد کے یا حصہ کا نذرانہ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دیا اور بفضلہ تعالی تا دم تحریر اپنے اس عہد پر قائم ہوں۔اگر چہ میری آمدنی بہت قلیل ہے تاہم اِس لازمی چندہ کے علاوہ باقاعدہ زکوۃ بھی ادا کر تا ہوں اور دیگر تحریکات کے چند سے (مثلاً تحریک جدید ، جوبلی فنڈ اور انصاری کا چندہ ) بھی باقاعدہ ادا کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ذہنی سکون اسلام پوشیدہ طور پر نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے اور ظاہر طور پر بھی میں نے اپنے چندوں کا ذکر اسلام کے اسی حکم کے تحت کیا ہے وہ بھی اس لئے کہ مجھ پر سوال کیا گیا ہے کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے پر جو فضل فرمائے اور میری زندگی میں جو تغیر رونما ہوا ایکس انہیں بیان کروں حقیقت یہ ہے کہ صرف مال چنداں خوشی اور قناعت نہیں دے سکتا امن اور سکون بخشنا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آج مجھے وہ ذہنی اطمینان اور سکون قلب میتر ہے جو ایک زمانہ میں میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا۔احمدیت کے طفیل ایک اور تغیر جو میری زندگی میں رونما ہوا وہ نمازوں کی با قاعدہ ادائیگی کا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے " ذکر الہی سے قلوب طمانیت