عظیم زندگی — Page xv
سے بھی ملاقات ہوئی۔ان سے ملاقات لاریب میری زندگی کا اہم ترین واقعہ ہے۔گو میں اُس وقت ان کے بلند روحانی مقام سے واقف نہ تھا پھر بھی ان سے ملاقات کے وقت مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں کسی اور دنیا میں ہوں۔وہ اپنے گھر کے برآمدے میں تشریف فرما تھے گفت گو شروع ہوئی تو میں نے عرض کی میرے نزدیک تو بہتر زندگی گزارنے کے لئے توریت کے دن احکام پر عمل کرنا ہی کافی ہے جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ یہ دن احکام تو مجمل حیثیت رکھتے ہیں زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی تفصیل و وصفات کی ضرورت ہے مثلاً ایک حکم ہے قتل نہ کرو لیکن بظاہر کئی ایسے مواقع جن پر جان لینا ضروری ہوتا ہے یا کن مراحل پر جان لینا منع ہے اور کن مواقع پر نہیں اس پر صرف اسلام روشنی ڈالتا ہے اور ہرحکم کی فلاسفی بھی بیان کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ئیں نہ صرف ان کے نورانی چہرے اور ان کی مقناطیسی شخصیت سے متاثر ہوا بلکہ ان کی گفت گو اور دلر با مسکراہٹ بھی ہمیشہ کے لئے میرے دل میں گھر کر گئی۔اسوقت یہ احساس شدت سے تھا کہ میں کیسی عام آدمی سے ملاقات نہیں کر رہا بلکہ ایک نہایت اعلی ہستی اس وقت میرے سامنے ہے۔قادیان کا ہر باشندہ ہی مجھ سے خندہ پیشانی سے پیش آیا۔سب سے بڑی چیز جس نے مجھے اسلام کی طرف راغب کیا وہ یہی حسین سلوک تھا ، گو اس وقت میرزا علم اسلام کے بارے میں صفر تھا مگر میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ جس درخت کے پھل ایسے میٹھے ہوں وہ درخت بھی یقینا اعلیٰ ہوگا۔میری واپسی پر ایک اور واقعہ پیش آیا جس نے میری زندگی میں تغیر رونما کیا میں امرتسر اسٹیشن پر دوسری گاڑی کے انتظار میں تھا۔ویٹنگ روم میں دوسرے افسر