عظیم زندگی — Page 126
۱۳۹ کوئی حد ہوتی تو پھر کہیں نہ کہیں ختم ضرور ہوتی اور اگر ختم ہو بھی جاتی تو اس کی آخری قدیر کیا ہوتا ہے یا تو اس کی آخری حد پر ضرور کچھ ہوتا یا بالکل کچھ نہیں اگر کچھ ہے تو پھر یہ کچھ جگہ گھیرے ہوئے ہے اور اگر کچھ بھی نہیں تو ضلا ء کی آخری حد پر ہم ابھی پہنچے نہیں بچوں مجوں ہم اس حقیقت پر غور کرتے ہیں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا لافانی ہے اور نہ ختم ہونے والا ہے اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيِّ الْقَيُّومُ - ہماری توجہ اس بات کی طرف بھی مبذول ہوتی ہے کہ روح کی زندگی بھی لافانی ہے۔یہ ایک درجہ سے دوسرے درجہ کی طرف ترقی کے راستہ پر مسلسل گامزن ہے۔مومنوں کی روحوں کی آنے والی زندگی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں بیان فرماتا ہے :- نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا آتِهِمْ لَنَا تُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا۔(9:97) تصویر سے بالا کائنات اگر چہ کائنات کی اپنی حدود ہیں مگر اس کی کا رعجیب اور وسعتوں کی گہرائی انسانی سمجھ سے بالا ہے۔خلاء کے برعکس مادہ کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ بغیر حد کے ہو۔خلاء کی گہرائیوں میں ڈور کہیں سب سے دور مقیم سیارہ ہے جو بڑے سے بڑے سائنسی آلات جو کہ کائنات میں تلاش کے لئے استعمال ہوتے ہیں اس کی پہنچ سے بھی باہر ہے۔ستاروں کے درمیان فاصلہ اور ہم سے ان کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اس فاصلہ کو میلوں میں گفتنا نا ممکن ہے یہ فاصلہ نوری سالوں میں گنا جاتا ہے۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے