عظیم زندگی

by Other Authors

Page 127 of 200

عظیم زندگی — Page 127

۱۲۷ ہے که روشنی ۸۶,۰۰۰, امیل فی سیکنڈ سفر کرتی ہے اور ہم سے قریب ترین ستارہ سوا چار نوری سالوں کے فاصلہ پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کو اس ستارہ سے ہماری دنیا تک آنے کے لئے سوا چار سال لگتے ہیں میلوں میں اگر حساب لگائیں تو وہ قریباً ۲۵ ملین میل کا فاصلہ بنتا ہے۔اتنے بڑے فاصلہ کو ذہن میں لانے سے ہمارے دماغ پر بوجھ پڑے لیکن یہ فاصلہ ان ستاروں کے مقابلہ میں بہت کم ہے جو کائنات کے دور کونوں میں جگمگا ر ہے ہیں۔دُنیا میں اس وقت عظیم الشان دوربین ہے جو ایسے ستاروں کے جھرمٹ کو دیکھ سکتی اور ان کی تصویر بنا سکتی ہے جو چار ہزار مین نوری سال کے فاصلہ پر ہیں اور اب ایسی ریڈیو ٹیلی اسکوپ بھی موجود ہے جو چھ ہزار ملین نوری سال سے تعلق پیدا کر سکتی ہے۔ٹیلی اسکوپی فاصلے یقینا ہمارے دماغوں کو چکرا دیتے ہیں۔ستاروں بھرے آسمان کی طرف ہم جو نگاہ دوڑاتے ہیں اور دُنیا کے عجیب عجیب رازوں پر غور کرتے ہیں تو ہمارا ذہن اللہ تعالیٰ کی اس صفت کی طرف جاتا ہے کہ اللہ لطیف ہے یعنی تصور میں نہ آنے والا۔سورج سورج ہر وقت چمکتا ہے لیکن رات کے وقت نظر نہیں آتا کیونکہ یہ زمین کے اُس حصہ کی طرف ہوتا ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے بہر حال رات کے وقت بھی ہم اس کی روشنی چاند اور دوسرے سیاروں میں منعکس ہوتی دیکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ بھی اسی طرح اپنے نیک اور صالح بندوں کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے یہ برگزیدہ بندے خدا کی روشنی کو اسی طرح منعکس کرتے ہیں جس طرح چاند اور دوسرے سیارے سورج کی روشنی کو منعکس کرتے