عظیم زندگی — Page 116
114 کے حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے" سچی خوشحالی ذاتی پاکیزگی میں ہے جو کہ ہمارا زندگی کا اصل مدعا ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے :- قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَلی (۱۵:۸۷) حضرت علی نے مقصد حیات کو یوں خوبصورتی سے بیان کیا ہے: ایک دانا آدمی کی ہر مصروفیت اپنی اصلاح ہونی چاہئیے اس کی تمام فکری آخریقے کے لئے اور اس کی تمام کوششیں آنے والی زندگی کی بہتری کے لئے ہونی چاہئیں " اس دنیا میں ہماری زندگی اُخروی زندگی کے سفر کا آغاز ہے۔مرنے کے بعد ہمارا جسم اور ہڈیاں تو ہیں گلنے سڑنے کے لئے رہ جائیں گی اور ہم خود اگلی دنیا کی طرف سفر کر جائیں گے اور وہ ایسی حقیقی دنیا ہے جیسی کہ یہ دنیا اور اس کے ان گنت کرے جو فضا میں چکر لگا رہے ہیں۔زندگی مختصر ہے اور تیاری کے لئے وقت بہت ہی مختصر کوئی بھی گزرا ہوا لمحہ واپس نہ آئے گا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ :- انہیں کس نے کہا ہے کہ زندگی لمبی ہے جوتے کا کوئ ھے موسم نہیں یہ تم پر کسی بھی وقت آجائے چنانچہ ہمیں ہر گھڑی کی قدر کرنی چاہیے یہ وقتے دوبارہ نہ آئے گا ہمارا اندرونی وجود لافانی ہے اس لئے ہمیں آئندہ زندگی کی فکر کرنی چاہئیے نہ کہ ہماری نظر اس جہان پر رہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں روحانی حقائق سمجھنے کی ہمت دے اور اس مادی دنیا میں زندگی کا مقصد کامیابی سے پورا کرنے کی توفیق دے۔اے