عظیم زندگی — Page 115
110 غلام احمد صاحب نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف ” اسلامی اصول کی فلاسفی میں کی ہے ہماری روح یعنی ہماری اصلیت ہمارے جسم کے مرنے کے بعد اسی طرح زندہ رہتی ہے جس طرح اس کے گزرنے کے بعد ، گویا دوسرے لفظوں میں ہم لافانی ہیں۔مقصد حیات وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ( ۵۱ : ۵۷ ) عبادتِ الهی صرف دُعا یا گیان دھیان تک ہی محدود نہیں جبکہ یہ ہر انسانی خیال، لفظ اور ٹمل پر حاوی ہے کیونکہ ہم جو کچھ بھی سوچتے یا خدا کی خاطر کرتے ہیں وہ عبادت ہی کا عمل ہے۔اگرچہ ہمارا تعلق اس دنیا سے ہے لیکن ہماری زندگی کا مدعا اپنی ذاتی طہارت ہونا چاہیے اپنی زندگی کا مقصد سلسل دعا اورمسلسل کوشش سے اپنے کردار کے اندر خدائی صفات کے ظہور سے کرنا چاہیئے مقصد بہت عظیم ہے اور کام بھی بہت کٹھن ہے لیکن اس ضمن میں کی ہوئی کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی ہمیں کمزوریوں اور ناکامیوں کے باوجود نا امید نہیں ہونا چاہیے بلکہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے الفاظ میں ان سے حوصلہ پانا چاہیئے۔آپ فرماتے ہیں :- اسلام انسان کو نا امیدی سے نجات دلاتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کے باوجود ذہنی پاکیزگی اور اعلیٰ کر دار حاصل کر سکتا ہے جو انسان کا عظیم مقصد ہے چنانچہ اسلام انسان کو دیکھے اور پاکیزگھے کے حصول کے لئے مسلسل سی کی حوصلہ افزائی ھے کرتا ہے اور یوں اسے اپنے مقصد