اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page viii
الذكر المحفوظ viii پھر مکی زندگی کے آخری سال بھی نہایت ہی خطر ناک تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے ساتھیوں سمیت شعب ابی طالب میں محبوس تھے۔شاہ دو جہاں اور اس کے پیارے جانثار بھوک و افلاس کا شکار تھے۔وہ دور تھا کہ کفار مکہ کا بچہ بچہ مسلمانوں کا جانی دشمن بن چکا تھا اور مسلمانوں کو اپنی حفاظت کے لیے جگہ نہ ملتی تھی۔ایسے پر آشوب وقت میں جب کہ مسلمان کمزوری اور کسمپرسی کی حالت میں مخالفین کی مشق ستم تھے، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ہم خود قر آن کریم اور اس کی تعلیم کی حفاظت کریں گے کتنا زور دار اور پر شوکت دعویٰ ہے۔اس فقرہ (انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظون ) کی طاقت کو وہی لوگ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو عربی جانتے ہیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جب مسلمان خود مخالفین کے گھیرے میں تھے اور ان کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔کفار کے مظالم نے ابتدائی مسلمانوں کو منتشر کر رکھا تھا اور ان کی زندگی میں کوئی اجتماعیت نہ تھی۔مخالفین سمجھتے تھے کہ جولوگ اپنی حفاظت نہیں کر سکتے اور ہمارے رحم و کرم پر ہیں ہم ان کو اور اس تعلیم کو جس پر ایمان لانے کے یہ دعویدار ہیں جب چاہیں صفحہ ہستی سے مٹادیں گے۔ایسے میں مخالفین کول کارا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم سارا زور لگا لو اور قرآن مجید کے مٹانے کے لیے پوری طاقت خرچ کر دو تو بھی تم نا کام رہو گے کیونکہ ہم خود اس کی حفاظت کریں گے۔پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھی آزاد ہوتے اور ترقی پاتے ہیں۔ایک عظیم الشان جماعت آپ کے ساتھ ہو جاتی اور قرآن مجید کی کمانہ حفاظت ہوتی ہے اور آج تک ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی۔کیا یہ بے نظیر حفاظت دنیا کی اور کسی مذہبی کتاب کو حاصل ہوئی ہے؟ ریورنڈ باسورتھ سمتھ رقم طراز ہیں: In the Quran we have, beyond all reasonable doubt, the exact words of Muhammed without subtraction and without addition (R۔Basworth Smith"Mohammad and Mohammadanism"۔London 1874, p۔15) آج ہمارے پاس موجود قرآن کریم میں بلاشک و شبہ کسی بھی قسم کی کمی بیشی کے بغیر محمد (ع) کے ہی الفاظ ہیں۔ویلیئم میور اپنی کتاب لائف آف محمد کے دیباچہ میں بحث کے بعد لکھتا ہے۔"We may upon the strongest presumption affirm that every verse in the Coran is genuine and unaltered composition of Muhammad himself۔" ترجمہ۔ہم نہایت مضبوط قیاسات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کی ہر ایک آیت اصلی ہے اور ہر قسم کی تحریف سے پاک محمد ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ہی تصنیف ہے۔