اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page ix of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page ix

ix پھر لکھتا ہے:۔"And conclude with at least a close approximation to the verdict of Van Hammer that we hold the Coran to be as surely Muhammad's words as the Muhammad held it to be the word of God۔" (William Muir, Life of Mohamet, London, 1894, Vol۔1, Introduction) ہم وان ہیمر کے مندرجہ ذیل فیصلہ کے بالکل مطابق نہ سہی کم سے کم اس کے خیال کے بہت موافق فیصلہ تک پہنچتے ہیں۔وان ہیمر کا فیصلہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں جو قرآن موجود ہے اس کے متعلق ہم ویسے ہی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اصلی صورت میں محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کا بنایا ہوا کلام ہے۔جس یقین سے کہ مسلمان کہتے ہیں کہ وہ خدا کا غیر مبدل کلام ہے۔نولڈ کے کا قول ہے: "Slight clerical errors there may have been, but the Qur'an of Othman contains none genuine element, though sometimes in very strange order۔Efforts of European scholars to prove the existence of later interpolations in the Qur'an have faild۔" (Encyclopedia Britanica Edition 11 under Heading "Quran") ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں ( طرز تحریر ) ہوں تو ہوں۔لیکن جو قرآن عثمان نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اس میں کچھ بھی بیرونی آمیزش نہیں ہے۔گو اس کی ترتیب عجیب ہے۔یورپین علما کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے بالکل ناکام ثابت ہوئی ہیں۔یہ وہ شہادتیں ہیں جو اسلام کے شدید ترین دشمنوں کی ہیں۔اَلْفَصْلِ مَا شَهِدَ بِهِ الْأَعْدَاءَ مگر با وجود اس واضح ثبوت کے دشمنانِ اسلام تعصب میں اندھے ہو کر اس حصن حصین کی دیواروں سے سر ٹکراتے چلے آئے ہیں کہ کسی طرح یہ ثابت کر دیا جائے کہ قرآن کریم بھی دوسرے مذاہب کی کتب کی طرح انسانی دست برد کا شکار ہو چکا ہے۔ہر دور میں مخالفوں نے ہر ممکن کوشش کی اور زور لگایا اور ہر جائز وناجائز تدبیر کو آزمایا مگر ہمیشہ ناکامی اور نامرادی کا طوق گلے کا ہار بنا۔آج بھی شیطان کے چیلے اپنا زور لگا رہے ہیں اور آئندہ بھی لگاتے چلے جائیں گے مگر بدنصیبی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔آئندہ سطور میں ہم اس موضوع پر گفتگو کریں گے کہ کس طرح اور کن ذرائع سے خدا تعالیٰ اپنے کلام کی حفاظت کا وعدہ پورا کرتا چلا آرہا ہے اور کیا دلائل ہیں کہ آئندہ بھی حفاظت کا وعدہ پورا کرتا رہے گا۔اس کے ساتھ