اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page vii of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page vii

vii پیش لفظ رب انفخ روح بركة في كلامي هذا واجعل افئدة من الناس تهوى اليه اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: 10) یعنی یقیناً ہم ہی نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں یہ آیت اسلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے اور اگر کوئی تعصب سے پاک انسان اس آیت پر غور کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ دعویٰ انسانی نہیں۔تمام مفسر ، جدید عرب محققین اور یورپین مصنف بالا تفاق کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے۔مکی دور مسلمانوں کے لیے ابتلاؤں اور آزمائشوں سے پر ایک ایسا دور تھا کہ مذاہب عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ابتدائی مومنین اسلام قبول کرنے کی پاداش میں انسانیت سوز مظالم کے شکار ہورہے تھے۔تھوڑے سے تو مسلمان تھے جن میں سے کچھ جلتے سورج تلے تپتی ریت پر بھاری بوجھوں کے تلے سسک رہے تھے تو کچھ نگی پیٹھوں پر لیٹے اپنی پچھلتی چربیوں سے دہکتے کوئلوں کی پیاس بجھا رہے تھے۔ایک طرف سے آل یا سر کی آہ و بکا ابھرتی تھی تو دوسری طرف وہ مقدس بدن دہائی دے رہے ہوتے جنہیں دو اونٹوں سے باندھ کر پھر اُن اونٹوں کو مخالف سمت میں دوڑا کر چیر دیا گیا تھا۔مسلمان ہونے والوں کو بے تحاشاز دوکوب کیا جاتا اور جب ظالم مار مار کر خود ہی تھک جاتے تو زخموں سے چور اور در دوالم سے بے حال ان غریبوں کے گلوں میں رستے ڈال کر لا ابالی نوجوانوں کے سپر د کر دیا جاتا جو انہیں مکہ کی سنگلاخ گلیوں میں گھسٹتے پھرتے۔چٹائیوں میں لپیٹ کر ناک میں دھونی دی جاتی اور اس اذیت ناک انداز میں دم گھونٹا جاتا۔اُن ستم رسیدہ مسلمانوں کی آہ وزاری سے پتھر دل پگھل کیوں نہ گئے !!! عصمت تاب مسلمان خواتین مخالفین کی درندگی کا شکار ہورہی تھیں تو خود سید المعصومین بھی خون آشام بھیٹریوں کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔آہ! کیوں اُس پیارے چہرے کو لہولہان کیا گیا !!! آہ ! بنی نوع انسان کے غم میں تڑپنے والے اور اپنی جان سے زیادہ نوع انسانی سے پیار کرنے والے کو کیوں ستایا گیا !!! بخاری میں روایت ہے: حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوکسی نبی کی حکایت فرماتے ہوئے دیکھا۔جس کو اس کی قوم نے لہو لہان کر دیا تھا۔اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے اور دعا کرتے جاتے تھے کہ اے خدا! میری قوم کو بخش دے۔وہ نادان ہے۔(بخاری استابة المرتدين باب اذا عرض الذي۔۔۔۔۔۔۔۔