اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 59 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 59

59 عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن گے۔لیکن وہ معاملات کی پیچیدگی اور سچائی کی باریک اور مہم نوعیت سے کما حقہ آگاہ تھے۔وہ کسی ایک نظریے کی بنیاد پر کسی دوسرے نظریے کو ثابت یا واقعہ کی وضاحت نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات وہ مختلف طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔وہ ایک ہی روایت کی ایک سے زیادہ معروف صورتیں پیش کر دیتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی درستگی کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیتے اور نہ اس ضمن میں قارئین کی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ہم آج انہیں کن معیارات پر پرکھیں۔اُس دور میں جس حد تک ان سے ممکن تھا انہوں نے ہر ایک واقعہ کو انتہائی تفصیل اور ثبوت کے ساتھ پیش کیا ہے۔تاہم بہت سے موقعوں پر وہ اس بات کو واضح بھی کرتے ہیں کہ وہ خود بھی پیش کردہ واقعے یا ثبوت سے متفق نہیں ہیں۔اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اس کے باوجود کہ ان مؤرخین کی پیغمبر اسلام کی ذات مبارکہ سے گہری عقیدت تھی، انہوں نے آپ کی زندگی کی تفصیلات کو ممکنہ حد تک درست اور ٹھوس دلائل اور شواہد کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔محمد ( ﷺ ) باب دوم ، صفحہ 59, 58 پبلشرز علی پلاز 30 مزنگ روڈ لاہور ) پھر بذات خود اعتراض کا بھونڈا پن بھی ظاہر ہے۔قرآن کریم کی حفاظت کے ذکر میں تاریخی ثبوتوں اور نا قابل تردید دلائل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے کہ حفاظت کا ایسا غیر معمولی اہتمام کیا گیا ہے کہ تاریخ انسانی میں اور کوئی مثال نہیں ملتی کہ اس شان اور اہتمام کے ساتھ کسی بھی چیز کی حفاظت کی گئی ہو اور اعتراض کیا ہے؟!!’ہوسکتا ہے“ گویا کوئی طفل مکتب یا نا واقف انسان ہے، جسے قرآن کریم کی تاریخ سے ادنی سا بھی مس نہیں اور جو یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم کے بارہ میں نہیں بلکہ کسی عام سی کتاب کے بارہ میں بات ہو رہی ہے۔پس اس سوال کا اتنا جواب ہی کافی ہے کہ یہ دراصل تمہاری حسرتیں ہیں نہ کہ حقیقت۔اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے تو ثبوت کے ساتھ پیش کرو۔پس یہ کیسا محقق ہے جو اتنے دلائل اور ثبوتوں کو دیکھ کر بھی یہ کہہ رہا ہے کہ ہوسکتا ہے یہ ہو گیا ہو اور وہ ہو گیا ہو؟ لگتا ہے تاریخ اسلام میں حفاظت قرآن کے سلسلہ میں روشن ثبوتوں کی آب و تاب سے اسکی آنکھیں چندھیا گئی ہیں اور ایک ہی طریقہ بچا ہے اعتراض کو آگے بڑھانے کا کہ روز روشن میں اندھے کی طرح ٹھوکریں کھاتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔بات کی جائے کہ ” ہو سکتا ہے آخر اعتراض کرنے کی جلدی کیا تھی ؟ کون سی گاڑی چھوٹ رہی تھی ؟ تھوڑی سی تحقیق کر لیتے پھر اگر اعتراض کا کوئی پہلو نظر آتا تو بیان کرتے اور اگر جاہلانہ روش ہی اختیار کرنی تھی تو پھر علمی میدان میں آئے ہی کیوں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کسی معز محفل میں کوئی دیوانہ چلا نا شروع کر دے۔جہاں واضح حقائق نظر آرہے ہوں وہاں جان بوجھ کر اندھے پن کا ثبوت دینا اور یہ کہنا ایک دیانت دار محقق کو زیب نہیں دیتا کہ ہو سکتا ہے یہ ہو گیا ہو۔ہوسکتا ہے وہ ہو گیا ہو۔