اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 60
الذكر المحفوظ 60 قرآن کریم حافظہ سے محو نہ ہونے دینا خدا تعالی کی ذمہ داری تھی اب تک تو یہ بات ہو رہی تھی کہ تاریخی شہادتیں اور مستند ثبوت سب اسی بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بعینہ ویسے ہی ہم تک پہنچایا ہے جیسا کہ آپ کے سپرد کیا گیا اور ان حالات میں کسی بشری کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی حصہ ضائع ہونا ناممکن تھا۔لیکن اس بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب خدا نے بنی نوع کی ہدایت کا سامان فرمانا ہی تھا تو پھر لازماً پورا سامان فرمانا تھا نہ کہ ادھورا چھوڑ دیتا اور اپنے فعل کو اپنی نگاہوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھتا۔جب ہدایت کا بیڑا اٹھایا تھا تو پھر لا محالہ ایسے سامان بھی بہم پہنچانے تھے کہ اس کا پیغام بلا کم کاست اور بلا شک وشبہ بنی نوع تک پہنچتا۔ناممکن تھا کہ اپنے ایک بابرکت سلسلہ کو مقصد پورا کیے بغیر اپنی آنکھوں کے سامنے ضائع ہوتے دیکھتا اور خاموش رہتا۔خاص کر اس صورت میں کہ اس سلسلہ کی حفاظت کا وعدہ بھی لے رکھا تھا اور پھر اس حفاظت پر پوری طرح قادر بھی تھا۔یہ امر بھی واضح ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک کام کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چنا تھا تو پھر اپنے ارادہ کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو لازماً ایسے قومی اور صلاحیتیں بھی دینی تھیں۔جب دُنیا تک اپنا کلام پہنچانے کے لیے آپ کو چنا تھا تو لازماً آپ کو وہ تمام صلاحیتیں بتمام و کمال عطا کرنی تھیں جو قرآن کریم کو بعینہ آگے منتقل کرنے کے لیے ضروری تھیں۔عقلی لحاظ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ خدا تعالیٰ جو اتنا عظیم الشان سلسلہ انبیاء قائم کرتا ہے اور ایک انقلاب ان کے ذریعے پیدا کرتا ہے تو یہ سب تبھی ممکن ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی تعلیم بلا کم و کاست اس کی مخلوق تک پہنچے۔پس کیونکر ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ لاکھوں کروڑوں انسانوں میں سے ایک کا انتخاب کرے اور وہ منتخب انسان اس قابل ہی نہ ہو کہ اس پیغام کو آگے پہنچا سکے اور پھر اس منتخب انسان پر اپنا کلام نازل کرے مگر اس کو ایسے قومی ہی نہ دے کہ وہ خدا کا مامورا سے دُنیا تک پہنچا سکے۔پس ضرور خدا تعالیٰ اس کلام کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے اور عقل اس بات کو تسلیم ہی نہیں کر سکتی کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنے کے لیے لاکھوں، کروڑوں انسانوں میں سے کسی ایک کو ساری دُنیا کی اصلاح کے لیے چنے اور پھر اُسے ایسے کمزور قومی عطا کرے کہ وہ ہر بات بھول جائے اور خود ہی شبہات کا شکار رہے اور خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کے شروع میں ہی خاموشی سے اسکی بربادی کا تماشا دیکھتا ر ہے۔وہ قادر مطلق اور ہادی خدا تو حفاظت کی خاطر ایسے ایسے انتظامات فرماتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور حامل وحی کو وہ ذہن رسا اور عظیم قومی عطا کرتا ہے جو اس کلام کا بوجھ سہارنے کے ساتھ ساتھ اسکی محافظت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: Again the person deemed fit by God to represent Him