اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 251
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 251 کر رہی ہوتی ہے۔ایسے ذہن جو کہ مناظرانہ طرز پر کلام سمجھنے کے عادی ہوتے ہیں ان کے لیے دلائل کا ایک انبار موجود ہوتا ہے اور جو ذہن اس طریق سے ہٹ کر ہلکے پھلکے انداز میں کہانی کی طرح حقائق جانے کے شوقین ہوتے ہیں وہ بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔عالم شخص اپنے انداز میں اسے پڑھتا ہے اور ایک بچہ بھی اس سے محفوظ ہو رہا ہوتا ہے۔پھر اگر قاری اس کو آخر تک نہ بھی پڑھے تو بھی ذہن میں کوئی تشنگی نہیں رہتی کہ اب تک جو پڑھا وہ نامکمل بحث تھی۔بلکہ جس آیت پر بھی ختم کرتا ہے وہاں تک ایک مکمل مضمون اس کے ذہن میں بیٹھ چکا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف نے تائید دین میں اور علوم سے بھی اعجازی طور پر خدمت لی ہے اور منطق اور طبعی اور فلسفہ اور ہیئت اور علم نفس اور طبابت اور علم ہندسہ اور علم بلاغت و فصاحت وغیرہ علوم کے وسائل سے علم دین کا سمجھانا اور ذہن نشین کرنا یا اس کا تفہیم درجہ بدرجہ آسان کر دینا یا اس پر کوئی برہان قائم کرنا یا اس سے کسی نادان کا اعتراض اٹھا نا مد نظر رکھا ہے غرض طفیلی طور پر یہ سب علوم خدمت دین کے لیے بطور خارق عادت قرآن شریف میں اس عجیب طرز سے بھرے ہوئے ہیں جن سے ہر یک درجہ کا ذہن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔(سرمہ چشم آریہ۔روحانی خزائن۔جلد 2 صفحہ 75 حاشیہ ) قرآن کریم کی ترتیب کے تنوع پر غور کرتے ہوئے مختلف مفسرین نے مختلف ترتیبیں بیان کی ہیں اور وہ سب ہی اپنی اپنی جگہ خوب ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے آیات اور سور کی لطیف ترتیب بیان کرتے جاتے ہیں۔گزشتہ سطور میں آپ کے بیان فرمودہ قرآن کریم کے دستور بیان سے چند نکات معرفت درج کیے گئے ہیں۔خلیفہ اسی الثانی نے اپنی مشہور زمانہ تفسیر کبیر میں جابجا قرآن کریم کی آیات کی ترتیب اور سورتوں کے مابین رابط کی وضاحت کی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے ترجمۃ القرآن میں سورتوں کے تعارفی نوٹوں میں سورتوں کی باہمی ترتیب کی وضاحت کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے قرآن کریم کی آیات اور سور میں ربط اور تسلسل ہے اور اس میں بہت تنوع ہے۔مختلف انداز سے قرآن کریم کی آیات اور سورتیں ایک دوسرے سے متعلق ہیں اور ان کے مختلف مضامین کے آپس میں ایک سے زیادہ تعلق ہیں۔مختلف مضامین کے لحاظ سے اگر ان دونوں جلیل القدر حضرات کی بیان فرمودہ ترتیب قرآن ہی مکمل طور پر بیان کی جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی۔قرآن کریم کے حسنِ ترتیب پر بے شمار معارف اور نکات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی عطا ہیں ، سب کا درج کرنا ممکن بھی نہیں۔آخر پر یہ ذکر کر کے اس نا پیدا کنار مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ قرآن کریم بسم اللہ کی ”ب“ سے لے کر الناس کی ”س“ تک مرتب اور باربہ کلام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: پس سورۃ فاتحہ میں ان تینوں دعاؤں کی تعلیم بطور براءت الاستہلال ہے یعنی وہ اہم مقصد جو وو 66