اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 252
الذكر المحفوظ 252 قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورۃ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورۃ تنبت اور سورۃ اخلاص اور دوسورۃ فلق اور سورۃ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالی کی پناہ مانگی گئی ہے۔پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔(تحفہ گولڑر و بی۔روحانی خزائن۔جلد 17 صفحہ 219-217) قرآن کریم میں اعادہ و تکرار اور اس کا حقیقی فلسفہ ابن وراق اپنی نابینائی کا رونا ان الفاظ میں بھی روتا ہے: repetition of the same thyme word or rhyme phrase in adjoining verses (Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg :112) ایک طرف تو قرآن کریم اپنے اسلوب بیان کے غیر معمولی اور بے مثل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری طرف اس دعویٰ کی تائید میں ہر دور میں اہل علم ، بلا تمیز مذہب و عقیدہ قرآن کریم کے اس اسلوب بیان کے انتہائی درجہ کمل اور اثر انگیز ہونے کی گواہی دیتے چلے آئے ہیں۔پس کوئی عربی سے نابلد، تعصب کی آگ میں جلنے والا اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے والا، یا کوئی مخمور شراب نوش اگر اس معجزانہ ترتیب اور خوبصورت اسلوب کو نہیں سمجھ سکا تو اس سے قرآن کریم پر کیا اثر پڑا ؟ گزشتہ سطور میں یہ ذکر گزر چکا ہے کہ تعلیم اور تدریس ہونے کے اعتبار سے قرآن کریم کے بیان میں ایک قسم کا اعادہ ہے۔اس انداز کے اختیار کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر موضوع کو انسانی فطرت کے تنوع کے پیش نظر مختلف انداز میں بار بار بیان کیا گیا ہے تا کہ ہر فطرت کا انسان اپنی قابلیت اور ذوق کے مطابق اس سے مستفیذ ہو سکے۔ہر موقع کے مطابق انبیاء کے وقت کے حالات کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے تا کہ قرآن کریم کا اصل اور بنیادی موضوع یعنی خدائے واحد کی عبادت اور اس کی اصل غرض، ہر طور سے واضح اور راسخ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتاب اللہ کے مضامین میں تصریف اور اعادہ و تکرار کے حقیقی فلسفہ پر روشنی ڈالتے ہوئے عقل اور فطرت انسانی کی رو سے دلائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ تو احمقوں کی خشک منطق ہے جو کہتے ہیں کہ بار بار تکرار سے بلاغت جاتی رہتی ہے۔وہ کہتے رہیں۔قرآن شریف کی غرض تو بیمار کو اچھا کرنا ہے وہ تو ضرور ایک مریض کو بار بار دوادے گا۔اگر یہ قاعدہ صحیح نہیں تو پھر ایسے معترض جب کوئی ان کے ہاں بیمار ہو جاوے تو بار بار دوا کیوں دیتے ہیں اور آپ کیوں بار بار دن رات تکرار میں اپنی غذا، لباس وغیرہ امور کا تکرار کرتے ہیں؟