اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 250 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 250

الذكر المحفوظ 250 السلام کی پیدایش خوارق طریق سے ہے ویسے ہی مسیح کی بھی ہے پھر یحیی علیہ السلام کی پیدائیش کا حال بیان کر کے مسیح کی پیدائیش کا حال بیان کیا ہے۔یہ ترتیب قرآنی بھی بتلاتی ہے کہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کی ہے۔یعنی جس قدر معجز نمائی کی قوت بیٹی کی پیدایش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدائیش میں ہے۔اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو بیٹی کی پیدائیش کا ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑ دیا اس سے کیا فائدہ تھا یہ اسی لیے کیا کہ تاویل کی گنجایش نہ رہے ان دونوں بیانوں کا ایک جاذکر ہونا اعجازی امر کو ثابت کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 281-280) قرآن کریم کی سورتوں میں مضامین کا ایک نظام ترتیب مقطعات کے حوالہ سے بھی ہے۔قرآن کریم کی ترتیب کے اس پہلو کو بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ایک جیسے مقطعات والی سورتیں ایک ترتیب سے ہیں نیز یہ کہ ایک جیسے مقطعات والی سورتوں کے مضامین بھی ایک جیسے ہی ہیں۔جب حروف مقطعات تبدیل ہوتے ہیں تو مضمون بھی بدل جاتا ہے۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے سورۃ الفاتحہ کا باقی تمام سورتوں سے یہ تعلق بیان فرمایا ہے کہ سورۃ الفاتحہ بھی انہی حروف پر مشتمل ہے جو کہ مقطعات کی صورت میں قرآن کریم میں آئے ہیں۔اس لحاظ سے سورۃ الفاتحہ کا مقطعات کے تحت آنے والی سورتوں کے مضامین سے گہرا تعلق ہے۔اب تک درج کی گئی مثالوں سے اندازہ ہو چکا ہوگا کہ قرآن کریم کی ترتیب میں بہت تنوع ہے اور بہت سے مختلف مضامین کے لحاظ سے آیات اور سورتیں ایک دوسرے سے تعلق رکھتی ہیں اور بہت سی ترتیبہیں اپنے اپنے انداز میں عام فہم اور آسانی سے سمجھ میں آنیوالی ہیں اور ایک حیرت انگیز رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔قرآن کریم کیونکہ ساری دُنیا کے انسانوں کے لیے یکساں طور پر ہدایت دینے کے لیے نازل کیا گیا ہے اس لیے بحث کا ایسا طریقہ اختیار کرنا لازمی تھا کہ ہر قاری اپنے اپنے مزاج اور طبعیت کے مطابق فائدہ اٹھائے اور ایسا نہ ہو کہ ایک انسان تو فائدہ اٹھا رہا ہو، اور دوسرا پڑھتے ہوئے عدم دلچپسی کا شکار ہو۔چنانچہ قرآن کریم کا یہ بھی ایک خاص انداز ہے کہ کسی صداقت کے بیان کرتے وقت عام لکھنے والوں کی طرح بحث نہیں کرتا بلکہ متعلقہ مضامین کو بیان کرتا چلا جاتا ہے۔گویا ایک گلدستہ ہے مضامین کا۔گلدستے میں ہر پھول جسکا اپنا ایک انفرادی اور جدا گانہ حسن اور خوبصورتی بھی ہوتی ہے، باقی پھولوں کے ساتھ مل کر الگ ہی نظارہ پیش کرتا ہے۔یہی حال قرآنی آیات کا ہے۔مختلف آیات مل کر ایک مضمون کی وضاحت کرتی ہیں، اور ان کا جدا گانہ حسن بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔جب قاری ان سب آیات کے مطالعہ کے بعد آخر پر پہنچتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک گلدستہ کی طرح اس صداقت کی ایک واضح تصویر بن چکی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ بہت سے ایسے مضامین بھی علم میں آتے ہیں کہ اگر کوئی دوسری ہستی اس مضمون کو بیان کر رہی ہوتی تو ہرگز یہ زائد مضامین علم میں نہ آتے نیز ہر آیت اپنی جگہ الگ مضمون بھی بیان