اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 249 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 249

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 249 دوسرے حصہ سے تمیز رکھتا ہے اس طرز سے سارا قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔مثلاً قرآن کریم میں شق القمر کے معجزہ کو ہی دیکھو کہ وہ ایک نشان تھا لیکن ساتھ اس کے قیامت کا قصہ چھیڑ دیا گیا۔جس کی وجہ سے بعض نادان قرینوں کو نظر انداز کر کے کہتے ہیں کہ شق القمر وقوع میں نہیں آیا بلکہ قیامت کو ہوگا۔شہادت القرآن۔روحانی خزائن۔جلد 6 صفحہ 311 حاشیہ ) مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ قرآن کریم واقعات کی تاریخی ترتیب کو مد نظر رکھتا ہی نہیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ اس بات پر دلیل کیا ہے کہ قرآن شریف میں اول سے آخر تک ظاہری ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔بجز دو چار مقام کے جو بطور شاذ و نادر ہیں۔تو یہ ایک سوال ہے کہ خود قرآن شریف پر ایک نظر ڈال کر حل ہو سکتا ہے۔یعنی اس پر یہ دلیل کافی ہے کہ اگر تمام قرآن اول سے آخر تک پڑھ جاؤ تو بجز چند مقامات کے جو بطور شاذ و نادر کے ہیں۔باقی تمام قرآنی مقامات کو ظاہری ترتیب کی ایک زرین زنجیر میں منسلک پاؤ گے اور جس طرح اس حکیم کے افعال میں ترتیب مشہور ہو رہی ہے یہی ترتیب اس کے اقوال میں دیکھو گے اور یہ اس بات پر کہ قرآن ظاہری ترتیب کو محوظ رکھتا ہے ایسی پختہ اور بدیہی اور نہایت قوی دلیل ہے کہ اس دلیل کو سمجھ کر اور دیکھ کر بھی پھر مخالفت سے زبان کو بند نہ رکھنا صریح بے ایمانی اور بددیانتی ہے۔اگر ہم اس دلیل کو مبسوط طور پر اس جگہ لکھیں تو گویا تمام قرآن شریف کو اس جگہ درج کرنا ہوگا اور اس مختصر رسالہ میں یہ گنجائش نہیں۔( تریاق القلوب : روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 456 حاشیہ) اور جہاں قرآن کریم میں دو چار مقامات پر واقعات کی ظاہری ترتیب کو مد نظر نہیں رکھا گیا تو وہاں بھی بلاوجہ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ مقصد اور گہری حکمت کے پیش نظر ایسا کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ تو ہم قبول کرتے ہیں شاذ و نادر کے طور پر قرآن شریف میں ایک دو مقام ایسے بھی ہیں کہ جن میں مثلاً عیسی پہلے آیا اور موسیٰ بعد میں آیا۔یا کوئی اور نبی متاخر جو پیچھے آنے والا تھا اس کا نام پہلے بیان کیا گیا اور جو پہلا تھا وہ پیچھے بیان کیا گیا۔لیکن یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ چند مقامات بھی خالی از ترتیب ہیں۔بلکہ ان میں بھی ایک معنوی ترتیب ہے جو بیان کرنے کے سلسلہ میں بعض مصالح کی وجہ سے پیش آگئی ہے۔لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ قرآن کریم ظاہری ترتیب کا اشد التزام رکھتا ہے اور ایک بڑا حصہ قرآنی فصاحت اسی سے متعلق ہے۔( تریاق القلوب : روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 456 حاشیہ ) چنانچہ یہ معنوی ترتیب اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یجی اور عیسی علیہ السلام کے قصہ کو ایک جا جمع کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے بیٹی علیہ