اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 215 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 215

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 215 کامل جلوہ دکھا رہے ہیں۔ایسا جلوہ کہ جس پر زیادت متصور نہیں۔اور وحشت کلمات اور تعقید ترکیبات سے بکلی سالم اور بری ہے۔ہر یک فقرہ اس کا نہایت فصیح اور بلیغ ہے اور ہر یک ترکیب اس کی اپنے اپنے موقعہ پر واقعہ ہے اور ہر یک قسم کا التزام جس سے حسن کلام بڑھتا ہے اور لطافت عبارت کھلتی ہے۔سب اس میں پایا جاتا ہے۔اور جس قدر حسن تقریر کے لئے بلاغت اور خوش بیانی کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ ذہن میں آ سکتا ہے وہ کامل طور پر اس میں موجود اور مشہور ہے۔اور جس قدر مطلب کے دل نشین کرنے کے لئے حسن بیان درکار ہے وہ سب اس میں مہیا اور موجود ہے اور باوجود اس بلاغت معانی اور التزام کمالیت حسن بیان کے صدق اور راستی کی خوشبو سے بھرا ہوا ہے۔کوئی مبالغہ ایسا نہیں جس میں جھوٹ کی ذرا آمیزش ہو۔کوئی رنگینی عبارت اس قسم کی نہیں جس میں شاعروں کی طرح جھوٹ اور ہنرل اور فضول گوئی کی نجاست اور بد بو سے مدد لی گئی ہو۔پس جیسے شاعروں کا کلام جھوٹ اور ہنرل اور فضول گوئی کی بد بو سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔یہ کلام صداقت اور راستی کی لطیف خوشبو سے بھرا ہوا ہے۔اور پھر اس خوشبو کے ساتھ خوش بیانی اور جودت الفاظ اور رنگینی اور صفائی عبارت کو ایسا جمع کیا گیا ہے کہ جیسے گلاب کے پھول میں خوشبو کے ساتھ اس کی خوش رنگی اور صفائی بھی جمع ہوتی ہے۔“ (براہین احمدیہ چہار صص حاشیہ نمبر گیارہ روحانی خزائن جلد اصفحہ 397,398 ایڈیشن اول صفحہ 334 ) ایک دوسری جگہ فرمایا: اس کی عبارت میں ایسی رنگینی اور آب و تاب اور نزاکت و لطافت و ملا سمیت اور بلاغت اور شیرینی اور روانگی اور حسنِ بیان اور حسن ترتیب پایا جاتا ہے کہ ان معانی کو اس سے بہتر یا اس سے مساوی کسی دوسری فصیح عبارت میں ادا کرنا ممکن نہیں اور اگر تمام دنیا کے انشا پرداز اور شاعر متفق ہوکر یہ چاہیں کہ اسی مضمون کو لے کر اپنے طور سے کسی دوسری فصیح عبارت میں لکھیں کہ جو سورۃ فاتحہ کی عبارت سے مساوی یا اس سے بہتر ہو۔تو یہ بات بالکل محال اور ممتنع ہے کہ ایسی عبارت لکھ سکیں۔کیونکہ تیرہ سو برس سے قرآن شریف تمام دنیا کے سامنے اپنی بے نظیری کا دعویٰ پیش کر رہا ہے۔اگر ممکن ہوتا تو البستہ کوئی مخالف اس کا معارضہ کر کے دکھلاتا۔حالانکہ ایسے دعوے کے معارضہ نہ کرنے میں تمام مخالفین کی رسوائی اور ذلت اور قرآن شریف کی شوکت اور عزت ثابت ہوتی ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص حاشیہ نمبر گیارہ روحانی خزائن جلد اصفحہ 404 ایڈیشن اول صفحہ 339) قرآن کریم کے بارہ میں ہر زمانہ میں اہل علم بلاتمیز عقیدہ و مذہب یہ گواہیاں دیتے آئے ہیں کہ اس جیسی اعلیٰ درجہ کی ادبی خصوصیات رکھنے والی کتاب اہل زبان عربوں نے نہ پہلے کبھی دیکھی اور نہ آج تک اس کے مقابل پر