اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 214
الذكر المحفوظ 214 بلکہ کلام سے پہلے کلام کرنے والے یعنی اپنی ذات کو حسن کی تمام تجلیات کا خالق اور مجسم حسن قرار دیا ہے۔فرمایا: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى :(طه: 9) وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بها (الاعراف: 181) اور اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام تخلیق کو حسین قرار دیا ہے۔فرمایا۔الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ (السجدہ : 32) اور فرمایا: فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المؤمن :15) اور انسان کو خصوصیت سے حسین کہا ہے۔فرمایا: وَ صَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمُ (المؤمن:40) اور پھر فرمانِ عام ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں حسن کو اختیار کرو۔فرمایا: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِين (البقرہ: 196) اور خاص طور پر اپنے قول کو حسین بناؤ۔فرمایا: وَقُلْ لِعِبَادِى يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَن بنی اسرائیل: 18) اور فرمایا: قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقره: 84) ”ادب“ ایک بہت مختلف المعانی لفظ ہے اس لیے قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت سے بعید تھا کہ وہ ایک مخصوص معانی کے اظہار کے لیے ایک پراگندہ خیال لفظ کو اختیار فرماتا جس کے حقیقی اور مجازی معنوں میں اختلاف ہو۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ادب پاروں کو ”ادب“ کا نام نہیں دیا بلکہ اس بہت بہتر معانی کے حامل لفظ کو جو کہ در حقیقت ادب کی جان بھی ہے، اختیار فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمودات کو احسن الحدیث اور احسن القصص کہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی عظمت اورشان ہے کہ اس نے ایسے لفظ کو قبول نہیں کیا جو اپنے معانی اور مطالب کے اظہار میں ایسا اختلاف اور وسعت رکھتا ہو کہ اس سے نفسِ مضمون کا ایک مستقل رشتہ قائم نہ ہو سکے۔حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن کریم لفظ حسن اور اس کے مشتقات سے بھرا پڑا ہے۔یہی اس کی شان اور منصب ہے کیونکہ جس ہستی کی طرف وہ بلاتا ہے وہ حقیقی معنوں میں حسن اول اور حسن آخر ہے اور قرآن اس حسن ازل اور لم یزل کی بجلی ہے۔قرآن کریم کے معجزانہ حسن بیان کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الْآيَاتُ خَزَرَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ (مسند احمد مسند المكثرين من الصحابه مسند عبد الله بن عمرو بن العاص) یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیات ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کے حسنِ بیان کے بارہ میں فرماتے ہیں: ظاہری صورت پر نظر ڈال کر دیکھو کہ کیسی رنگینی عبارت اور خوش بیانی اور جودت الفاظ اور کلام میں کمال سلاست اور نرمی اور روانگی اور آب و تاب اور لطافت و غیرہ لوازم حسن کلام اپنا