اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 216 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 216

الذكر المحفوظ 216 کوئی کتاب بنا سکے۔بہت سے عربی دانوں نے بڑے بڑے پائے کی کتب لکھی ہیں مگر کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ان کی کتاب عربی ادب کے حسن کے کسی بھی شعبے میں قرآن کریم سے آگے نکل گئی ہے۔بلکہ عربی زبان کے ماہرین فصاحت و بلاغت کے میدان میں قرآن کریم کو قاضی قرار دیتے اور حسنِ کلام کی اعلیٰ ترین مثال کے طور پر قرآن کریم کو ہی پیش کرتے آئے ہیں۔عرب کا مشہور زمانہ شاعر لبید بن ربیعہ عامری نے جس کی شاعری کا شمار بلند ترین عربی ادب پاروں میں ہوتا تھا اور جس کا قصیدہ سبعہ معلقات میں سے ایک تھا ، قرآن کریم کی اعلیٰ وارفع فصاحت اور بلاغت کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اس درجہ بلند پایہ کلام انسانی نہیں ہوسکتا اسلام قبول کرلیا تھا اور قرآن کریم کے انسانی طاقت سے بالا اور الہبی کلام ہونے کی حقیقت پر اپنے ایمان کی پختگی کا اظہار اس طرح کیا کہ شعر کہنا چھوڑ دیا۔حضرت عمرؓ اعلیٰ ادبی ذوق رکھنے والے صاحب علم و فضل شخص تھے۔لبیڈ کے اسلام قبول کرنے کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر نے لبیڈ سے شعر سنانے کی فرمائش کی۔لبید نے جواب میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت شروع کر دی۔حضرت عمر کہنے لگے کہ جناب میں نے آپ سے اپنے شعر سنانے کو کہا ہے۔اس پر لبید کہنے لگے کہ مـــا کـنــت اقول بيتا من الشعر بعد ان علمنى الله البقرة و ال عمران یعنی جب اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۃ البقرۃ اور ال عمران سکھا دی ہیں تو اب کس طرح ممکن ہے کہ اس کے بعد میں ایک شعر بھی کہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کولبید کا یہ جواب اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اُن کا وظیفہ دو ہزار درہم سالانہ سے بڑھا کر اڑھائی ہزار درہم سالانہ کر دیا۔(اسد الغابہ جلد چہارم حالات لبید بن ربیعہ صفحہ 262 ) عربی کلاسیکی ادب سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ ادب عربی میں لبید بن ربیعہ ایک نمایاں اور بلند مقام کے حامل ہیں۔وہ اس درجہ کے شاعر تھے کہ اُن کا کلام اسلام کے فتح کے دور سے پہلے تک کعبہ میں آویزاں ان ادب پاروں میں شامل تھا جو بہترین عربی شاعری کے نمونہ کے طور پر دیوار کعبہ پر سجائے گئے تھے۔ادبی رفعتوں کو چھونے والا دیانت دار انسان لبید قرآن کریم کے سحر انگیز حسن بیان کے اعتراف میں یہ قسم کھاتا ہے کہ اب وہ تاحیات شعر نہیں کہے گا۔کیونکہ قرآن کریم میں عربی زبان اپنے حسن کے معراج کو پہنچ گئی ہے اور اس کے بعد کوئی کلام ایسا ہو ہی نہیں سکتا جو اس سے بڑھ جائے۔طفیل بن عمرو دوسی ، یمن کے نواح میں رہنے والا معزز اور سحر بیان فصیح و بلیغ یمنی شاعر اپنے ادبی کمالات، اثر ورسوخ ، دولت اور عزت و وجاہت کی وجہ سے امر اور ؤ سا میں شمار ہوتا تھا، خانہ کعبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں مشغول دیکھتا ہے۔تجس پر آپ کے قریب ہوتا ہے اور جب تلاوت کی آواز کانوں میں پڑتی ہے تو حسن بیان دیکھ کر قرآن کے کلام الہی ہونے کا قائل ہو جاتا ہے کہ اس شان کا کلام بنانا انسانی طاقت سے بالا ہے اور مسلمان ہو جاتا ہے۔(اسد الغابہ جلد چهارم حالات طفیل بن دوسی)