اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 90
الذكر المحفوظ 90 بھی بدطینت لوگ جو دیانت داری کی پروا کیے بغیر صرف اسلام دشمنی میں اعتراض برائے اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اُن کو یہ کہنے کا ایک موقعہ مل جاتا کہ قرآن کریم کی حفاظت میں شبہ ہے کیونکہ یہ چند صحابہ کے ہاتھوں سے ہو کر ہم تک پہنچا ہے۔ہو سکتا ہے ان چند صحابہ نے کسی وجہ سے کوئی تحریف کر دی ہو یا اس قلیل جماعت سے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔چنانچہ اس طریقہ کار سے ممکنہ شک کا بھی قلع قمع ہو جاتا ہے کیونکہ ساری قوم کا اس طرح جھوٹ پر اکٹھا ہو جانا یا مجموع طور پر سی غلطی کا شکار ہوجانا ناممکن ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کوئی سورۃ نہیں لکھی گئی کوئی آیت نہیں لکھی گئی کوئی زیر اور زیر نہیں لکھی گئی جس کے متعلق دو قسم کی شہادتیں نہیں لی گئیں۔ایک یہ کہ تحریر موجود ہو، دوسرے یہ کہ زبانی گواہ موجود ہوں جو یہ کہتے ہوں کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا نا ہے۔یہ کتنی بڑی محنت ہے اور کتنی بڑی احتیاط کا ثبوت ہے۔زبانی گواہی کو نہیں مانا گیا جب تک اُس کے ساتھ تحریری شہادت نہ ہو اور تحریری شہادت کو نہیں مانا گیا جب تک اُس کے ساتھ زبانی گواہ نہ ہوں۔گویا تحریر بھی موجود ہو اور زبانی گواہ بھی موجود ہوں تب کسی سورۃ یا آیت کو قرآن کریم میں شامل کیا جاتا اور یہ زبانی گواہ بھی بعض دفعہ سینکڑوں تک ہوا کرتے تھے صرف ایک دو آیتیں ایسی ہیں جن کے متعلق صرف دو دو گواہ ایسے ملے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایسا سُنا ہے۔لیکن باقی ساری آیتیں اور سورتیں ایسی ہیں جن میں کسی کے ہیں، کسی کے پچاس اور کسی کے سو گواہ تھے اور بہت سے حصوں کے ہزاروں گواہ موجود تھے۔بہر حال وہ شہادت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر سے ثابت ہوتی تھی خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے املاء اور لکھوانے ثابت ہوتی تھی۔پھر زبانی گواہ آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے رسول کریم سے ایسا سنا یا ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایسا پڑھا ہے وہی قطعی اور یقینی سمجھی جاتی تھی اور اسی قسم کی شہادتوں کے بعد ہی قرآن کریم میں کوئی آیت شامل کی جاتی تھی۔( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 85،84 تفسیر القریش:2) اس طریقہ کار سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے اس قول کے کیا معنے ہیں کہ ” قراء کی شہادت مختلف مقامات پر اسی طرح کثرت سے ہوتی رہی تو قرآن کا ایک کثیر حصہ ضائع ہو جائے گا واضح سی بات ہے کہ حضرت عمر تحریرات کے ضائع ہونے کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ صحابہ کی شہادت سے ہونے والے نقصان کا ذکر کر رہے ہیں اور وہ نقصان ایسا ہے کہ صحابہ کے بعد اس کا مداوا بھی نہیں ہو سکے گا۔وہ نقصان یہی تھا کہ صحابہ کی