اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 91 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 91

عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 91 شہادت کے ساتھ ہی وہ گواہی بھی دم تو ڑ دیتی جو صرف صحابہ بھی دے سکتے تھے۔انہوں نے رسول کریم سے قرآن کریم سیکھا تھا اور وہی یہ گواہی دے سکتے تھے کہ موجودہ دور میں موجود قرآن کریم وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور آپ نے امت کو دیا۔پس اگر بر وقت اقدام نہ کیا جاتا تو یہ عظیم الشان گواہی ضائع ہو جاتی اور ایک حصہ کثیر کے بارہ میں یہ شک پیدا ہو جاتا ہے کہ چند صحابہ نے اکٹھا کیا ہے قرآن اس لیے نہ جانے کتنا صحیح ہے۔ابنِ ابی داؤد اپنی کتاب المصاحف میں ایک روایت درج کرتے ہیں کہ: و ذلك فيما بلغنا حملهم على ان تتبعوا القرآن فجمعوه في الصحف في كثير خلافة ابی بکر خشية ان يقتل رجال المسلمين في مواطن معهم من القرآن فيذهب بما معهم من القرآن ولا يوجد عند احد بعدهم ابن ابی داؤد: كتاب المصاحف الجزء الاول صفحه 23) ہمارے علم کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں انتہائی کوشش کر کے قرآن کریم جمع کرنے کا قدم اس ڈر سے اُٹھایا گیا کہ اگر مسلمان کثرت سے شہید ہوتے گئے تو قرآن کریم کا وہ حصہ جو ان کے پاس ہے اور ان کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ہے وہ ضائع ہو جائے گا۔پھر اُس دور کے حالات کو مد نظر رکھ کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی کئی ضمنی فوائد حاصل ہوئے اور بعض ایسے معاملات حل ہوئے جو آئندہ شکوک و شبہات کا موجب ہو سکتے تھے۔مثلاً مختلف صحابہ کے پاس اپنی اپنی ضرورتوں کے تحت جمع کیے ہوئے قرآن کریم کے نسخے موجود تھے۔کیونکہ بعض صحابہ نے جو حصہ قرآن انہیں حفظ نہیں تھا وہ اکٹھا کر لیا ، یا یہ کہ نزول کے ساتھ ساتھ قرآن کے متن کا کچھ حصہ تحریر کر لیا۔یا چند سورتیں برکت کے لیے لکھ لیں (بخاری کتاب فضائل القرآن باب تعليم الصبيان القرآن) پھر صحابہ ذاتی طور پر جمع کر رہے تھے اور یہ بھی ممکن تھا کہ بہت سے صحابہ ایسے ہوں جنہوں نے اپنے تحریر کردہ قرآن کریم کے حصہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور پیش کر کے اسے مستند نہ بنایا ہو۔جبکہ تحریر کا رواج بھی نہ تھا اور نہ ہی اتنی مشق تھی اس لیے ممکن تھا کہ غلطیاں بھی ان نسخوں میں راہ پا چکی ہوں۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ان نسخوں میں آیات کی ترتیب مختلف ہو اور ایسی صورت ہو کہ فرض کریں کسی صحابی نے سورۃ البقرۃ کی 1 تا 25 تک آیات درج کی ہوں اور پھر 30 تا 287 بھی درج کی ہوں۔مگر آیات 26 تا 29 کسی سفر یا اور مصروفیت کی وجہ سے درج نہ کر سکا ہو ممکن تھا آئندہ زمانہ میں ان نسخہ جات کو لے کر ہی اعتراضات اٹھائے جاتے کہ ان میں فرق ہے۔حضرت ابو بکر ا گر فردا فردا تمام صحابہ کے نسخوں کو چیک کر کے ان کی غلطیوں کی نشان دہی کرتے اور فردا فردا سب کو زیڈ کے صحیفہ پر متفق کرتے اور ان کی تسلی کرواتے تو یہ بہت محنت طلب اور لمبا کام ہو جاتا اور امت کی متفقہ گواہی بھی نہ ملتی۔پھر اس میں ایک یہ