اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 89
عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 89 ان لا يكتب الا من عين ما كتب بين يدى النبي ﷺ لا مجردا لحفظ (الاتقان في علوم القرآن جزء اول النوع الثامن عشر في جمعه و ترتيبه صفحه (58) ابن حجر کا قول ہے کہ دو گواہوں سے مراد حفظ اور کتابت تھی اور سخاوی نے اپنی کتاب جمال القراء میں لکھا ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ دو گواہ اس بات پر گواہی دیں کہ وہ لکھا ہوا قرآن خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روبرو لکھا گیا ہے۔۔۔ابو شامہ کا قول ہے کہ ان صحابہ کی غرض یہ تھی کہ قرآن اُسی اصل سے تحریر میں لایا جائے جو اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں آپ کی نگرانی میں تحریر میں آیا ہے نہ کہ محض حافظہ پر اعتماد کر کے لکھ لیا جائے۔ڈاکٹر صبحی صالح لکھتے ہیں: "جمہور کے نزدیک دو عادل گواہ حفظ کے لیے اور دو کتابت کے لیے یعنی کل چار گواہ ضروری تھے۔“ ( علوم القرآن ، 1993 : باب دوم فصل اول عہد عثمان میں جمع تدوین صفحہ 111) اب یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر قرآن کریم کو محض تحریری صورت میں ایک جلد میں جمع کرنا مقصود تھا تو کیوں نہ دو چار ، دس ہیں حفاظ کو بٹھا لیا گیا اور قرآن کریم کو بجائے اٹھارہ مہینوں کے لمبے دور کے فوری طور پر تحریر کر لیا گیا؟ پس محض حافظہ پر انحصار نہ کیا گیا۔علاوہ ازیں یہ بھی ممکن تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی تحریر کیے گئے نسخوں سے ایک اور نسخہ تیار کر لیا جاتا لیکن ایسا بھی نہ کیا گیا۔مقصود یہ تھا کہ قرآن کریم کو آخری کتابی شکل میں محفوظ کر دیا جائے۔پھر کیوں بظاہر آسان راہوں کو چھوڑ کر وہ راہ اختیار کی گئی جو مشکل تر تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آخری شکل میں محفوظ کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ تھا کہ امت محمدیہ کی گواہی ساتھ شامل ہو جائے اور وہ طریقہ اختیار کیا جائے جس پر امت مسلمہ میں کوئی بے چینی راہ نہ پائے اور اب تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حفاظت قرآن کے ضمن میں جس جانفشانی اور اکمال کے ساتھ کام سرانجام دے چکے تھے اس میں کسی قسم کا شک نہ رہے اور آئندہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قرآن کریم کو مکمل طور پر شک وشبہ سے بالا کر کے پیش کیا مگر صحابہ کے دور میں کوئی تبدیلی راہ پاگئی۔اگر چند صحابہ ان نسخوں سے مزید نقول تیار کرتے تو شک پیدا ہو سکتا تھا کہ گنتی کے چند صحابہ نے ہی تو قرآن آگے پہنچایا ہے اور اس چھوٹے سے گروہ سے غلطی ہو جانا قرین قیاس تھا یا اس قلیل تعداد کا کسی بددیانتی پر اکٹھے ہو جانا شائد ایک عام دنیا دار کی آنکھ میں ممکن العمل ہوتا۔اگر چہ صحابہ کی تاریخ اور ان کے مناقب کا مطالعہ یہ ادنی سا بے دلیل شبہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا کیونکہ یہ لوگ تو ہر طرح سے آزمائے جاچکے تھے۔علاوہ دوسرے پہلوؤں کے اس پر بھی غور کیجیے کہ جولوگ اس درجہ محتاط ہیں کہ ایک کام جس میں سراسر خیر ہے اس کے کرنے سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ یہ کام رسول کریم نے نہیں کیا تو ہم کس طرح کر لیں۔کیسے ممکن ہے کہ یہ لوگ کسی بھی قسم کی تحریف کے مرتکب ہو جائیں؟ لیکن پھر