انوارالعلوم (جلد 9) — Page 349
۳۴۹ د کھانے کے سبب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نکل گئی نہ یہ کہ ہتھیلیوں کے دیکھنے کے سبب سے آپ کے سکرات موت کم ہو گئیں یہ تمام کی تمام بات ایک سرتاپا جھوٹ ہے جس کے کہ مصنّف ہفوات اور ان کے ہم آہنگ لوگ خاص طور پر مشتاق معلوم ہوتے ہیں۔اس حدیث کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ عائشہ کو جنت میں دیکھ کر آپ پر موت آسان ہوگئی ہے اور اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ہر انسان خواہ نبی ہو خواہ غیرنبی بلکہ نبی زیادہ اس امر کی فکر رکھتا ہے کہ اس کے عزیز اور رشتہ دار بھی خدا کے غضب سے بچ جائیں اور اس کے فضلوں کے وارث ہوں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کا جنت میں دکھایا جانا واقع میں ایک خوشی کا امر تھا اور اس پر آپ کا یہ فرما دینا کہ مجھ پر یہ بات دیکھ کر موت آسان ہو گئی ہے۔آپ کی شان کو بڑھانے والا ہے نہ کہ آپ کی شان کے خلاف۔جس نبی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہےلعلک با خع نفسك ألا يكونوا مؤمنین ۷۶؎ کیاتُو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔کیا اس کو اپنے اہل کی نسبت اس امر کی خواہش نہیں ہو گی کہ وہ بھی انعامات الہٰیہ کے وارث ہوں اور کیا اگرناللہ تعالیٰ اس کے بعض اہل کی نسبت اس امر کی خوشخبری دے کہ وہ بھی اعلیٰ درجہ کے انعامات کے وارث ہوں گے۔اور ان کے جسم خاص طور پر روشن بنائے جائیں گے تو اس کی آخری گھڑیاں خوشی سے معمور نہ ہوں گی؟ اے کاش! مصنف صاحب ہفوات اپنے پتھر سے زیادہ سخت دل اور معکوس کوز ے سے زیادہ ایمان سے خالی قلب سے اس واقعہ کو نہ جانچتے بلکہ ایک مومن دل کی حالت سے اندازہ لگاتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ یہ حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف نہیں ہے بلکہ آپ کی شان کو بڑھانے والی ہے اور اسی طرح حضرت عائشہؓ کی عظمت کا اظہار کرنے والی ہے۔اور غالباً یہی باعث ہے کہ مصنّف ہفوات کو یہ حدیث گراں گزری ہے اور ان کو اپنے دماغ پر پورا زور دے کر عجیب قسم کے بے تعلق اعتراض ایجاد کرنے پڑے ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس روایت میں سکرات موت کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ موت سے کسی قدر پہلے کا معلوم ہوتا ہے اور موت کے آسان ہونے کے معنے دل کی خوشی کی ہیں نہ کہ موت کی ظاہری تکلیف کے۔کیونکہ اس قسم کی تکلیف ایک طبعی امر ہے اور دل کی خوشی یا عدم خوشی کا اس سے بھی تعلق نہیں۔