انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 348

۳۴۸ حضرت عائشہؓ کے ہاتھ دکھانے سے رسول کریم ؐکو سکرات موت سے نجات ہوئی؟ مصقت ہفوات کے فردوس آسیہ کے ہی حوالہ سے ایک اور اعتراض ائمہ حدیث پر کیا ہے اور یہ کہ ان کی روایات کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکرات موت سے نجات اس طرح ہوئی کہ آپ کو حضرت عائشہ کے ہاتھ اور ہتھیلیاں دکھائی گئی تھیں۔اس روایت کو درج کر کے مصنف ہفوات نے یوں اعتراض کیا ہے ’’غنیمت ہے کہ پیغمبر معصوم کو دوزخ نہ دکھائی ہاتھ ہتھیلیوں ہی پر خیر گزری اور نہ ان خوش اعتقاد مولویوں سے یہ بھی دور نہ تھا‘‘ پھر لکھا ہے۔"لطیفہ۔معلوم ہوتا ہے کہ جناب عائشہ ؓکے ہاتھوں کی قوت مقناطیسی بلکہ قوت برقی بڑھتے بڑھتے ملک الموت کا کام کرنے لگی تھی مَا شَآ اللہ جب شرافت، جس ادب، جس سنجیدگی کے ساتھ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہؓ کا ذکر کیا گیا ہے وہ مصنف ہفوات کے اندرونے کے ظاہر کرنے کے لئے خودہی کانی ہے۔اس پر مزید کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔میں اصل اعتراضی کے جواب پر کفایت کرتا ہوں۔یہ حدیث جس کی طرف مصنف ہفوات نے اشارہ کیا ہے مسند احمد بن حنبل اور این سعدی ہے۔مسند احمد بن حنبل میں یہ الفاظ ہیں عن عائشة أيضا ان النبي صلى الله عليه و سلم قال إنه ليهون على الموت لا ني رأیت بيا ض کف عائشة في الجنة \ ۷۴؎ یعنی حضرت عائشہ نے یہ بھی روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر موت آسان ہو گئی ہے کیونکہ میں نے عائشہ کے ہاتھوں کی سفیدی کو جنت میں دیکھا ہے اور ابن سعد نے مرسل طور پر اس روایت کو یوں بیان کیا ہے انہ صلى الله عليه وسلم قال لقد رأيتها في الجنة حتى ليھون على بذالک موتی کانی آری كفيها يعني عا ئشة۷۵؎ ترجمہ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت میں اس کو دیکھا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مجھ پر موت آسان ہو گئی ہے گویا کہ میں عائشہ کی ہتھیلیوں کو جنت میں دیکھ رہا ہوں۔اصل روایات کو پڑھ لینے کے بعد کوئی عقلمند وہ اعتراض نہیں کر سکتا جو مصنّف ہفوات نے کئے ہیں۔ان روایات سے نہ اشارۃً نہ کنایۃً بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عائشہ کی ہتھیلیاں