انوارالعلوم (جلد 9) — Page 350
۳۵۰ رسول کریم ﷺ پر بد اخلاقی کا الزام فردوس آسیہ ہی کے حوالہ سے کشف الغمة عن جميع الائمة کی ایک روایت درج کر کے مصنّف ہفوات نے ایک اعتراض ائمہ حدیث پر یہ کیا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے شرمی کا الزام لگایا ہے۔وہ روایت بقول مصنّف ہفوات یہ ہے کہ ’’جب آنحضرت میرے (عائشہ کے) گھر تشریف لاتے تو دونوں گھٹنے میرے دونوں زانووں پر رکھے اور دونوں ہا تھ مونڈھوں پر اور مجھ پر اوندھے ہو جاتے اور سانس چڑھ جاتی تھی" میں پہلے کے آیا ہوں کہ فردوس آسیہ کوئی حدیث کی کتاب نہیں ہے اور نہ اس کی روایات اہل سنت کی مسلّمہ ہیں بلکہ ہم اس کے مصنف کی حالت تقویٰ اور علم کو بھی نہیں جانتے۔پس اس کی روایات پر پناء رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ شیعہ مذہب پر اعتراض کرنے کے لئے کوئی شخص حشاشین اور بھنگی، چرسی، فقیروں کے اقوال پر اپنے دلائل کی بناء رکھے کیونکہ اس قسم کی کتاب کے مصنفین کی اصل غرض عجیب و غریب روایات کا جمع کرنا ہوتی ہے نہ کہ تحقیق وتدقیق۔اسی طرح فردوس آسیہ نے جس کتاب سے یہ روایت نقل کی ہے وہ کتاب بھی حدیث کے علم کے لئے مستند نہیں ہے۔امام شعرانی ان علماء میں سے ہیں جو روایت کی تحقیق سے زیادہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم کسی روایت سے عبرت کا حاصل کر سکتے ہیں پس خواہ روایت جھوٹی ہو خواہ سچی وہ اس کو درج کر دیتے ہیں۔انہوں نے صوفیاء کرام کے سوانح میں جو کتاب لکھی ہے اس میں ایسی روایات بہت سی جمع کر دی ہیں جو گوشیعوں کی روایات کا تو مقابلہ نہیں کر سکتیں مگر پھر بھی عقل کو چکرا دینے کے لئے کافی ہیں اور ان کی غرض اس قسم کی روایات کو نقل کر دینے سے محض یہ ہوتی ہے کہ ہم ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر محقّق صوفياء اور محقق ائمہ حدیث کا یہ طریق نہیں ہے وہ جب روایات کو جمع کریں گے تو بے شک ہرقسم کی حدیث جو اس خاس قانون کے مطابق ہو جسے انہوں نے اپنی تصنیف کے وقت مد نظر رکھا ہو درج کر دیں گے لیکن استعمال کے وقت اس امر کو مد نظر رکھیں گے کہ آیا کوئی حدیث تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے کس پایہ کی ہے۔اس بات کو کھول دینے کے بعد کہ نہ فردوس آسیہ کا مصنّف نہ امام شعرانی روایت کے معاملہ میں اس مقام پر ہیں کہ ان کی بیان کرد ہ روایت حدیث کی تحقیق کے متعلق کوئی وُقعت رکھتی ہو