انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 119

۱۱۹ میں گرا دیتے ہیں۔حالانکہ اعزاز اور اکرام اور شے ہے اتباع اور۔وہ ان کی اتباع نہ کریں مگر اختلاف رائے سے جو دیانتداری پر مبنی ہو ان کی پچھلی خدمات پر پانی کیونکر پھر جاتا ہے۔سیاست سوداہے دوسرا نقص یہ ہے کہ ہم لوگ اس امر کو نہیں جانتے کہ سودا کیاشَے نے تمام سات سودے پر چل رہی ہے اور جب تک یہ سودا ہم نہ سیکھیں گے اس وقت تک نہ گورنمنٹ کے ساتھ معاملہ میں کامیاب ہوں گے نہ دوسری اقوام ہے۔ہمیں کبھی یہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے کہ جو کچھ کہتے ہیں بس اس سے ایک قدم نہیں ہٹیں گئے۔بے شک ہم حسن ِتدبیر سے یہ کوشش کریں کہ دلیل سے، حکمت سے دوسرے کو اپنے مطلب کی طرف کھینچ لاویں بلکہ اپنے مطالبہ سے بھی زیاده حق لے لیں لیکن عدم تسامح کی کارروائی پر ہمیں کبھی عمل نہیں کرنا چاہئے۔ہمیں دنیا کے سامنے بھی اپنے مطالبات اس صورت میں نہیں رکھنے چاہئیں کہ ان کو مانتے ہو تو مانو ورنہ لو ہم جاتے ہیں بلکہ ہمیشہ اس پر آمادہ رہنا چاہئے اور اس آمادگی کو ظاہر کرنا چاہئے کہ دوسرے کی مشکلات اور اس کے راستہ کی روکوں کو بھی ہم غور سے سنیں گے اور ان کا لحاظ کریں گے۔علیحدہ حقِ نیابت میرے نزدیک مسلمانوں کی سیاسی طاقت کے مضبوط کرنے اور گورنمنٹ میں ان کی آواز کو وزن دار بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے مطالبات کو اس طرح پیش کیا جایا کرے کہ وہ صرف معقول ہی نہ ہو بلکہ دوسروں کو بھی معقول نظر آویں۔میں مثال کے طور پر ایک امرکو لیتا ہوں اور یہ علیجده حق ِ نیابت ہے۔یورپ کے لوگ علیحده حق نیابت کو ملک کے حق میں سخت مضر خیال کرتے ہیں اور یہ بات بھی درست ہے۔مگر مسلمانوں کی کمزوری ہندوؤں کا کل شعبوں پر قبضہ اور مسلمانوں کی ترقی کے راستے بند کردینا یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ جب تک اس حالت کی اصلاح نہ ہو جائے جُداگانہ حق نیابت کا مطالبہ کریں بلکہ ملازمتوں میں بھی اپنا نسبتی حق مانگیں۔اب یورپ کے نزدیک جُداگانہ حق نیابتی گو خودکشی ہے لیکن ملازمتوں میں حقِ نسبتی کا مطالبہ پورا اور کھلا ہوا جنون ہے۔اتفاق ایسا ہے کہ ہندوؤں کا بوجہ کثیر التعداد ہونے کے اس اصل کے رائج کرنے میں فائدہ ہے۔پس وہ اپنے فائدہ کی غرض سے اس کی تائید کرتے ہیں اور اہل یورپ سمجھتے ہیں کہ وہ دانا ہیں اور مسلمان پاگل اور ملک کے دشمن۔مجھ سے لندن کے سب سے بڑے روزانہ اخباروں کے ایڈیٹروں میں سے ایک نے جو مسلمانوں کی تائید میں تھا حیرت سے ذکر کیا کہ یہ پاگلانہ مطالبہ مسلمان کس طرح کرتے ہیں۔لارڈ منٹو کے