انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 118

۱۱۸ کہ مسلمانوں کو سیلف گورنمنٹ کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہے یا نہیں۔آزادی ہر انسان کا حق ہے اور مسلمان اس حت کو نظرانداز نہیں کر سکتے مگر سوال صرف طريق عمل کا ہے۔میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ میرے نزدیک تعاون زیادہ کار آمد حربہ ہے اور میں ان لوگوں سے جو اس حربہ کو استعمال کئے بغیر عدم تعاون پر عامل ہو گئے ہیں درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک دفعہ تعاون کا حربہ بھی چلا کر دیکھیں۔بے شک اس حربہ کا چلانا بہت بڑی جرأت اور رات دن کی محنت چاہتا ہے مگر ملک کی بہتری ایسا کام نہیں جس کے لئے ذاتی آرام کی قربانی نہ کی جا سکے۔میں ہرگز تسلیم نہیں کر سکتا کہ تعاون کا تجربہ کر لیا گیا ہے۔تعاون کا نہیں، خوشامد کا، لالچ کا ، حرص کا، طمع کا بلکہ جھوٹ اور فریب کا تجربہ اس وقت تک کیا گیا ہے۔ملک کے فوائد کو مدنظر رکھ کر تعاون کا تجربہ بحیثیت قوم اب تک کل ہندوستان نے تو الگ رہا کسی ایک قوم نے بھی نہیں کیا۔پس اس امر کو بِلا تجربہ کے چھوڑ دینا اور ملک کو فتنہ و فساد کی ندی میں دھکیل دینا کہ حوادث زمانہ کی تھپڑیں کھاتا پھرے کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔اور کم سے کم میں یہ کہوں گا کہ اگر ایک فریق عدم تعاون کا قائل ہو تو اسے نہیں چاہئے کہ تعاون کے خیال والوں کی ذاتی مخالفت کرے یا ان کی نیت پر الزام لگائے۔مسلمانوں کا سلوک اپنے لیڈروں سے افسوس! مسلمانوں نے اپنے پچھلے غلط رویہ سے کتنا نقصان اٹھایا ہے جبکہ ہندوؤں کے تعاونی لیڈر پنڈت مالویہ صاحب پبلک اور کانگریس میں ویسے ہی معزز رہے جیسا کہ وہ پہلے تھے سر سپرو اور شاستری اسی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہے جس سے پہلے دیکھے جاتے تھے۔مسلمانوں کے لیڈر مسٹر جناح اور فضل الحق، سرشفیع اور اس قسم کے دوسرے لوگ جو یا عدم تعاون کے قائل نہ تھے یا اس کے اندھادھند مقلّدوں میں سے نہ تھے ان کی آواز اس طرح دبادی گئی کہ گویا انہوں نے ملک کی کوئی خدمت کی ہی نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو تعاون اور عدم تعاون دونوں کے فوائد سے مالامال ہو گئے اور مسلمانوں دونوں طرف سے گھاٹے میں رہے۔پچھلے سال کے سفر یورپ میں جن یورپین اہل الرائے سے ملا ہوں میں نے دیکھا ہے سوائے ایک دو کے سب کے سب باوجود اختلاف کے ہندو لیڈروں کے مداح تھے اور سوائے ایک دو کے سب کے سب مسلمان لیڈروں کو حقیر اور بیوقوف سمجھتے تھے۔اس کا باعث یہی ہے کہ مسلمان ایک وقت میں اپنے لیڈروں کو سر پر چڑھاتے ہیں دوسرے وقت میں ان کو اختلاف پر قعرِ مذلّت