انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 98

۹۸ باتیں واقع میں پہلی کُتب میں پائی جاتی ہیں تواس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ ان کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارف قرآنیہ ہوں جو پہلی کُتب میں نہیں پائے جاتے۔اس کے بعد میں چھ ماہ کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ حضرت مسیح موعود کی کُتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پر لکھوں گا جو پہلے کسی مصنف اسلامی نے نہیں لکھے۔اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ کی مدت دی جائے گی کہ وہ اس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کریں اس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ ان کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ آیا میرے بیان کرده معارف قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے لئے گئے ہوں گے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں گے ان علماء کے ان معارف قرآنیہ سے کم از کم دُگنے ہیں یا نہیں جو انہوں نے قرآن کریم سے ماخوذ کئے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں۔اگر میں ایسے دُگنے معارف دکھانے سے قاصر ہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں۔لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا دعوی ٰمنجانب اللہ تھا۔یہ ضروری ہو گا کہ ہر فریق اپنی کتاب کی اشاعت کے معاً بعد اپنی کتاب دوسرے فریق کو رجسٹری کے ذریعہ سے بھیج دے۔مولوی صاحبان کو میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ دُگنی چوگنی قیمت کاوی پی میرے نام کر دیں۔اگر مولوی صاحبان اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا ادنی ٰ خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں۔اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کُتب میں موجود نہ ہوں۔اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسّر یا مصنّف نے لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے۔