انوارالعلوم (جلد 9) — Page 97
۹۷ اچھوتے مسائل کی دھوم تھی۔غُل تھا۔مگر جب پوچھا گیا کہ وہ معارف کیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو جواب ندارد‘‘۔پھر حضرت مسیح موعود کے بیان کردہ معارف کے متعلق لکھا ہے:۔’’کم سے کم کسی قدر معارف قرآنیہ ہونے چاہئیں، کتنے دلائل اور علوم مختصّہ ہوںجن سے انسان مسیح موعود مہدی مسعود ہو سکے ان کی صرف فہرست بتادو۔تو پھر خدا چاہے یہ ہم بتلادیں گے کہ یہ معارف بالکل مسروقہ ہیں"۔اگر یہ لوگ اپنی اس بات پر مضبوط اور قائم ہیں اور اس کو صداقت کا معیار قرار دینے کے لئے تیار ہیں تو اس بات کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کی کتابوں میں سے وہ حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ پہلی کتابون میں قرآن کریم سے اخذ کر کے بیان کئے گئے ہیں۔کہہ دینے کو تو انہوں نے کہہ دیا کہ مرزا صاحب نے کوئی معارف بیان نہیں کئے اور جو کئے ہیں وہ سرقہ ہیں۔پچھلی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اگر اس بات پر ثابت قدم رہیں اور اس کو سچائی کا معیار سمجھیں تو اس کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی کُتب سے ایسے قرآنی حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کسی نے لکھے ہیں۔دیوبندیوں کو چیلنج مگر مولوی صاحبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن کریم میں وہ معارف ہیں جو پہلی کتب میں نہیں ہیں۔پس حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کے پرکھنے سے پہلے ہمیں جدت و کثرت کا معیار قائم کر لینا چاہئے۔اور اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ غیراحمدی علماء مل کر قرآن کریم کے وہ معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دُگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے لکھے ہیں اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے پہلے مفسرین و مصنّفین نے بھی نہیں لکھے۔اگر میں کم سے کم دُگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں طریق فیصلہ یہ ہو گا کہ مولوی صاحبان معارف قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کر دیں اور اس کے بعد میں اس پر جرح کروں گا جس کے لئے مجھے چھ ماہ کی مدت ملے گی۔اس مدت میں جس قدر باتیں ان کی میرے نزدیک پہلی کُتب میں پائی جاتی ہیں ان کو میں پیش کروں گا۔اگر عدالت فیصلہ دیں کہ وہ