انوارالعلوم (جلد 8) — Page 502
۵۰۲ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جو لوگ مرتد ہوئے ان کو کسی نے نہیں قتل کیا صرف اس وقت تک ان سے جنگ کی گئی جب تک کہ انہوں نے حکومت سے بغاوت جاری رکھی- پس کسی شخص کو حق نہیں کہ وہ اس فعل کو اسلام کی طرف منسوب کرے- ایسے افعال ہر مذہب کے لوگوں سے ہوتے رہتے ہیں- دوم: اس امر کا اظہار کہ ہم لوگ امیر کے اس فعل کو درست نہیں سمجھتے اور اس اظہار کی یہ غرض ہے کہ جب کسی شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے فعل کو دنیا عام طور پر نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو اس کی آئندہ اصلاح ہوجاتی ہے- پس بِلا جذبات عداوت کے اظہار کے جن کو میں اپنے دل میں نہیں پاتا، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کابل گورنمنٹ کا یہ فعل اصول اخلاق ومذہب کے خلاف تھا اور ایسے افعال کو ہم لوگ ناپسندیدہ سمجھتے ہیں- یہ افعال ہمیں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے- نہ پہلے شہیدوں کی موت سے ہم ڈرے ہیں اور نہ یہ واقعہ ہمارے قدم کو پیچھے ہٹا سکتا ہے- چنانچہ اس دل دہلا دینے والے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مجھے تار کے ذریعہ سے بائیس آدمیوں کی طرف سے درخواست ملی ہے کہ وہ افغانستان کی طرف مولوی نعمت اﷲخان کا کام جاری رکھنے کے لئے فوراً جانے کو تیار رہیں۔اور ایک درخواست یہاں انگلستان میں چوہدری ظفراﷲخان صاحب بار ایٹ لا ایڈیٹر انڈین کیسز نے اسی مضمون کی دی ہے- پس جو غرض ان قتلوں سے ہے وہ ہر گز پوری نہ ہوگی- ہم آٹھ لاکھ آدمیوں میں سے ہر ایک خواہ مرد ہو خواہ عورت خواہ بچہ اس راستہ پر چلنے کے لئے تیار ہے جس پر نعمت اﷲخان شہید نے سفر کیا ہے۔اب میں اس امید پر اس مضمون کوختم کرتاہوں کہ مذہبی آزادی کے دلدادہ اس موقع پر وہ کم سے کم خدمت کرکے جو آزادی کی راہ میں وہ کرسکتے ہیں اپنے فرض سے سبکدوش ہوں گے۔یعنی اس فعل پر ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے- قومیں الگ ہوں، حکومتیں الگ ہوں مگر ہم سب انسان ہیں ہماری انسانیت کو کوئی نہیں مار سکتا- ہماری ضمیر کی آزادی کو کوئی نہیں چھین سکتا- پس کیا انسانیت اس وقت ظلم پر اپنی فوقیت کو بالا ثابت کرکے نہیں دکھائے گی؟ (الفضل ۲۵ اکتوبر ۱۹۲۴)