انوارالعلوم (جلد 8) — Page 503
۵۰۳ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم لندن میں ہندوستانی طلباء سے گفتگو (۲۰ستمبر۱۹۲۴ء شام چار کے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف سے مسلمان ہندوستانی طلباء کو چائے پر بلایا گیا۔اس موقع پر طلباء سے جو سوال وجواب ہوئے وہ درج ذیل ہیں۔) غیر مسلم حکمرانوں کی فرمانبرداری ایک طالب علم:- میں آپ سے یہ دریافت کرناچاہتاہوں کہ مسلمانوں کو غیر مسلم حکمران قوم کا کس حد تک لائل LOYAL) ہونا چاہیئے۔حضرت اقدس:۔میں اس سوال کا جواب دینے سے پہلے آپ سے اصولی طور پر ایک بات پو چھتاہوں ممکن ہے اس سوال میں ہی اس کا جواب بھی آجائے۔آپ یہ بتائیں کہ اگر مسلمان حکومت ہو تو مسلمانوں کو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کس حد تک کرنی ضروری ہے۔طالب علم:- جب تک وہ مسلمان حکومت درست رہے، عدل و انصاف کے قوانین پر عمل کرے اور رعایا کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے اس کاوفادار رہنا ضروری ہے۔اگر وہ ان باتوں کو چھوڑ دے اور غلطیاں کرے تو نہیں۔حضرت اقدس :۔بہت ٹھیک ہے جب تک وہ نیک رہے اس وقت تک اطاعت اور فرمانبرداری ضروری ہے۔تویہی اصول حکومت کی اطاعت کی حد کا ہو گیا۔اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کیا قید رہی۔